تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 469

بتایاتھا کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کاانکار توکرتے ہیں مگر جب مصیبت آتی ہے اوران کے دل اور دماغ پرسے وہ پردے دو رہوتے ہیں جوقومی تعصب یا جہالت وغیرہ کے نتیجہ میں پڑ جاتے ہیں تووہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھک جاتے اور اس کو خلوص کے ساتھ پکار ناشروع کردیتے ہیں۔ان کی یہ فطرتی پکار اس بات کاثبوت ہوتی ہے کہ ان کے دل خدا تعالیٰ کی عظمت اوراس کی کبریائی کومحسوس کرتے ہیں ورنہ مصیبت کے وقت ان کی فطرت اس طرح عریان ہوکر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کااقرار کرنے پرکیوں مجبورہوتی۔اب اللہ تعالیٰ اس توحید کے ثبوت کے لئے خانہ کعبہ کے وجودکو پیش کرتاہے اورفرماتا ہے کہ کیایہ لوگ نہیں دیکھتے کہ عرب میں چاروں طرف لوٹ گھسوٹ اورقتل وغارت کابازار گرم رہتاہے۔اور کسی کی جان اورعزت و آبرومحفوظ نہیں سمجھی جاتی۔لیکن مکہ والوں کو حدود حر م میں رہنے کی وجہ سے اتنا بڑاامن حاصل ہے کہ کوئی ان پر انگلی تک نہیں اٹھاسکتا یہ عظیم الشان انعام آخر مکہ والوں کوکیوں حاصل ہوا؟ کیا اس میں ان کی کسی ذاتی قابلیت کادخل ہے۔یااس کے پیچھے صرف وہ دعائے ابراہیمی کام کررہی ہے جو بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے وقت انہوں نے کی اور اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ رنگ میں التجاء کی کہ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ( البقرۃ :۱۲۷) یعنی اے میرے رب ! اس جگہ کو ایک پُرامن شہربنادے اوراس کے باشندوں میں سے جو بھی اللہ اور یوم آخرت پرایمان لائیں انہیں ہرقسم کے پھل عطافرما۔پھر جبکہ دعائے ابراہیمی ؑکی وجہ سے ہی انہیں امن میسر آیا اوردعائے ابراہیمیؑ کی وجہ سے ہی انہیں روزق ملا اور دعائے ابراہیمیؑ کی وجہ سے ہی انہیںعزت اورشہر ت نصیب ہوئی توانہیں سوچناچاہیے کہ ابراہیمؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کیااس لئے کی تھی کہ یہاں خدائے واحد کی بجائے تین سوساٹھ بت رکھ دیئے جائیں اورانسان اپنی جبینِ نیاز رب العالمین کی بجائے پتھر کے بے جان بتوں کے آگے جھکادے یااس لئے کی تھی کہ خدا تعالیٰ نے ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ کو حکم دیاتھا کہ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْعٰكِفِيْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ (البقر ۃ : ۱۲۶)یعنی میرے اس گھر کوطواف کرنے والوں۔اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع وسجود کرنے والوں کے لئے ہمیشہ پاک و صاف رکھو۔جب اس گھر کی تعمیر ہی خدائے واحد کی عباد ت کاایک مرکز بنانے کے لئے کی گئی تھی اورجبکہ انہی دعائوں اورکعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے مکہ والوںکوتمام عرب میں ایک نمایاں اعزاز حاصل ہواتویہ کتنی شرم کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کااتناعظیم الشان نشان ان کی آنکھوں کے سامنے رہتاہے اوربیت اللہ کی ایک ایک اینٹ انہیں خدائے واحد کی عبادت کی طرف متوجہ کررہی ہے پھر بھی ان کی خطاکار پیشانی ہمیشہ باطل کے سامنے جھکتی ہے اوروہ اپنے عمل سے احسان ناشناسی کابدترین مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔