تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 451

اگر تمہاراملک تمہیں امن دینے کے لئے تیار نہیں تو تم غیرممالک میں نکل جائو۔اورگائوں گائوں اورقریہ قریہ میں پھر کر خدائے واحدکی عبادت قائم کرو اوراگردیکھو کہ کسی جگہ تمہاری تبلیغ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں توگھبرائونہیں۔زمین کو خدا تعالیٰ نے بڑاوسیع بنایاہے تم اس علاقہ کے ساتھ ملتے ہوئے دوسرے علاقوں میںتبلیغ شروع کردو۔اوراس بات سے مت ڈروکہ اگر ہم نے تبلیغ کی تودنیا ہماری دشمن ہوجائے گی۔اوروہ ہمیں جانی اورمالی مشکلات میں مبتلاکردےگی۔تمہاری جانیں آخر کب تک سلامت رہیں گی۔ہرانسان نے ایک دن مر کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوناہے۔پس اگرتم اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے مرگئے توکیافائدہ ؟ جائواوردنیا کے کناروں میںپھیل جائو اوراسلام او رقرآن کی تبلیغ کرو۔اس جہاد کے دوران میںاگرتمہیں موت بھی آگئی تو وہ بڑی مبارک موت ہوگی۔تم شہادت کامرتبہ حاصل کرو گے اورخدا تعالیٰ کی جنت کے وارث ہوگے۔آج تک دنیا میں جتنی بھی فاتح قومیں گذری ہیں انہوں نے پہلے اپنے وطنوں کو چھوڑااوراس کے بعد انہیں فتوحا ت نصیب ہوئیں۔عربوں نے اپنے وطن کو چھوڑا۔ترکوں نے چھوڑا۔یہودیوں نے چھوڑا۔آرین نسل کے لوگوں نے چھوڑا۔اوروہ دور دورملکوں میں پھیل گئے۔اگروہ اپنے وطنوں کو نہ چھو ڑتے توانہیں فتوحات بھی نصیب نہ ہوتیں اوروہ نئے نئے ملکوں کے وارث نہ بنتے۔پس اگرمومنوں کوبھی خداکے دین کی اشاعت کے لئے اپنے وطن چھوڑنے پڑیں تواس میںکوئی بڑی بات نہیں۔مگریاد رکھناچاہیے کہ ایک ہجرت قومی ہوتی ہے اورایک فردی ہوتی ہے۔بیشک بعض افراد کی ہجرت قو م کے معیار کوبلندکردیتی ہے۔لیکن قومی زندگی اسی صورت میں پیداہوتی ہے جب قوم کاہرفرد خدا تعالیٰ کے دین کے لئے اپنے وطن کوچھوڑنے اورخدا تعالیٰ کی خاطرغیر ممالک میں نکل جانے کے لئے تیار ہو۔اسی امر کی طرف زیر تفسیر آیت میں توجہ دلائی گئی ہے۔اوریہی حقیقت ایک دفعہ مجھے رؤیا میں بھی بتائی گئی۔میں نے دیکھا۔کہ میں اپنے گھرسے نکلاہوں اور میراخیال ہے کہ میں اپنے لئے کوئی مکان تلاش کروں۔جب میں باہر آیاتومیں نے دیکھا کہ ماسٹر محمدابراہیم صاحب جمونی کھڑے ہیں اورلوگ ان کے پاس مکانوں کے لئے آتے جاتے ہیں۔ایسامعلوم ہوتاہے کہ جن لوگوں کے پاس مکان ہیں انہوں نے وہ مکان انتظام کے لئے ان کے سپرد کئے ہوئے ہیں اوروہ آگے دوسروںکودیتے ہیں۔میں نے بھی ان سے ذکر کیا کہ مجھے اپنے لئے مکان کی ضرورت ہے۔انہوں نے مجھے ایک مکان دکھایاجس کے چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں مگران کمروں پر چھت نہیں اورکمروں کی دیواروں پر چھوٹے چھوٹے کپڑے لٹکے ہوئے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کپڑے کیسے ہیں۔انہوں نے کہاکہ چونکہ ان کمروں پر چھت نہیں اس لئے دھوپ کے وقت انہیں اوپر ڈال لیاجاتاہے۔میں اس وقت اپنے دل