تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 450
يَوْمَ يَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ (جس دن کہ جہنم کا عذاب کافروں کو گھیر کرتباہ کردے گا )یہ وہ دن ہوگا کہ خدائی عذاب ان کے اوپر سے بھی انہیں اَرْجُلِهِمْ وَ يَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۵۶ ڈھانک لے گا اوران کے پائوں کے نیچے سے نکل کر بھی ان کو گھیر لے گا۔اور(خدا)کہے گااپنے عملوں کانتیجہ چکھو۔تفسیر۔يَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ میں اس طرف اشارہ فرمایاکہ جب وہ عذاب آئے گا تواوپرسے بھی آجائے گااورنیچے سے بھی آجائے گا۔یعنی سردارانِ مکہ بھی مکہ والوں کو چھوڑ دیں گے جیساکہ عمروبن العاصؓ اورخالد بن ولیدؓ نے چھوڑ دیااور عوام النا س بھی اپنے سرداروں کاساتھ چھوڑ دیں گے اوراللہ تعالیٰ کہے گاکہ اب اپنے اپنے اعمال کی سزابھگتو۔اسی طرح مِنْ فَوْقِھِمْ میں ہرقسم کا آسمانی عذاب ،بیرونی حملے ،حکومتِ وقت کی گرفت ،بالاافسروں یامذہبی پیشوائوں کی ناراضگی اور خاندان کے اکابر کامختلف قسم کی مشکلات اور تکالیف میں مبتلاہونابھی شامل ہے اور مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ میں ہرقسم کے زمینی عذاب شامل ہیں۔خواہ وہ ماتحت ملازمین کی طرف سے پیداہوں یاماتحت افسروں کی طرف سے۔اسی طرح فساد بغاوت اورتدابیر کاالٹ جانابھی ایسے ہی عذاب ہیں جو خودانسان کے پائوں کے نیچے سے ظاہرہوتے ہیں۔يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِيْ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعْبُدُوْنِ۰۰۵۷ اے میرے مومن بندو ! میری زمین وسیع ہے۔پس تم میری ہی عبات کرو۔كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ۰۰۵۸ ہرجاندار موت کامزہ چکھنے والا ہے۔پھر ہماری طرف ہی تم (سب )کولوٹایاجائے گا۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاکہ کفار پر عذاب تو ضرور آئے گا۔لیکن اس وقت انہیں اپنی طاقت اورجتھے پر غرور ہے اوریہ سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو اپنے زورِ بازو سے کچل سکتے ہیں۔سوہم مسلمانوں کونصیحت کرتے ہیں کہ