تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 449
اورپھر ان کی تعداد بھی اتنی نہیں۔غرض اسی طرح وہ پانچ سات قبائل کے نام لیتے چلے گئے کہ فلاں ہوگا۔فلاں ہوگا اورہربار ابوسفیا ن نے کہا کہ یہ غلط ہے۔آخر انہوں نے کہا۔یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کالشکرہوگااورکس کاہوگا۔کہنے لگا بالکل جھوٹ ہے۔میں توانہیں مدینہ میں آرام سے بیٹھاچھوڑ کر آیاہوں۔ان کی تولڑائی کی کوئی تیار ی ہی نہیں تھی۔یہ باتیں ابھی ہوہی رہی تھیں کہ اسلامی لشکر کے چند سپاہی جو پہرہ پرمتعین تھے و ہ پہرہ دیتے ہوئے قریب پہنچ گئے۔اورانہوں نے ابوسفیا ن کی آواز سنی۔ان میں حضرت عباسؓ بھی تھے جورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور ابوسفیان کے بڑے گہرے دوست تھے۔اس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر پر سوار تھے۔انہوں نے آواز سنی توکہنے لگے۔ابوسفیان!ابوسفیا ن نے کہا۔عباسؓ ! تم کہاں؟حضرت عباس ؓ نے کہا۔محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کالشکر لے کرآگئے ہیں۔تُوجلدی سے میرے پیچھے بیٹھ اور خداکے نام پر ان کی منتیں کر اوراپنی اوراپنی قوم کی معافی کے لئے درخواست کر ورنہ تباہی آجائے گی۔پھر خود ہی انہوں نے اس کاہاتھ پکڑااورخچر کے پیچھے بٹھاکر اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔غر ض فتح مکہ ایسی اچانک ہوئی کہ کفار ابھی سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ اسلامی لشکر ان کے صحنوں میں اترگیا۔يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ (اور)وہ تجھ سے عذاب کے جلدی لانے کامطالبہ کرتے ہیں۔اورجہنم کافروں کو بِالْكٰفِرِيْنَۙ۰۰۵۵ یقیناً تباہ کرنے والی ہے۔تفسیر۔فرمایا۔یہ لوگ عذاب کے متعلق جلدی توکررہے ہیں مگریہ نہیں جانتے کہ جب وہ عذاب آئے گا تووہ سب منکر ینِ اسلام کا احاطہ کرلے گا۔متواترایک مطالبہ کو آگے پیچھے بیان کرنے سے صاف ظاہر ہے کہ ایک مطالبہ دنیوی عذاب کے متعلق ہے اوردوسرامطالبہ اُخروی عذاب کے متعلق ہے۔ایک مطالبہ سے یہ مراد ہے کہ ہم پر تیری پیشگوئیوں کے مطابق دنیا میں عذاب کیوں نہیں آجاتا اور دوسرے مطالبہ سے یہ مراد ہے کہ کیوں ہم تیری مخالفت کی وجہ سے مرنہیں جاتے او رجہنم میں داخل نہیں ہوتے۔چنانچہ دوسرے مطالبہ کے بعد جہنم کابھی ذکر ہے جو پہلے مطالبہ کے بعد نہیں۔