تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 448

نشان رحمت ظاہرکرچکا ہے۔لیکن اگرتم عذاب کا نشان ہی دیکھناچاہتے ہو تواللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔وہ عذاب کا نشان بھی تمہیں دکھادے گا اورجھوٹافناہوجائے گا اورسچافتح پا جائے گا۔اورخدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والا امتیازی نشان جھوٹا نہیں ہوسکتاکیونکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اورزمین کی ہر بات کو جانتاہے۔پس اس کے عذاب سے وہی لوگ تباہ ہوسکتے ہیں جوجھوٹ پر ایمان لاتے ہیں اوراس کے نشانات کاانکار کرتے ہیں۔وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى اوروہ تجھ سے عذاب کے جلدی لانے کی خواہش کرتے ہیں۔اوراگرایک مقرر وقت نہ ہوتا لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَيَاْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ توعذاب ان کے پاس آجاتا۔اوراب بھی وہ ان کے پاس ضرور(آئے گااور)اچانک آئے گا اس حالت میں لَا يَشْعُرُوْنَ۰۰۵۴ کہ وہ جانتے بھی نہ ہوں گے۔تفسیر۔فرمایا۔یہ لوگ جوعذاب کے آنے کی جلد ی کررہے ہیں۔ان کویاد رکھناچاہیے کہ خدا تعالیٰ عذاب دینے میں دھیما ہے۔اگراس نے ایک وقت مقر ر نہ کیاہوتا توعذاب ابھی آجاتا۔اب بھی آئے گاتوسہی مگر اچانک آئےگااورایسی حالت میں آئے گاکہ و ہ جانتے بھی نہ ہوں گے۔جیسے فتح مکہ ایسی اچانک ہوئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کالشکر مکہ کے پاس بھی پہنچ گیا۔اورمکہ والوں کوخبر تک نہ ہوئی۔تاریخ میں لکھا ہے کہ جب اسلامی لشکر رات کو مکہ کے قریب پہنچااو رہرسپاہی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت اپنے اپنے کھانے کے لئے علیحدہ علیحدہ آگ جلائی توابوسفیا ن اوراس کے بعض ساتھی جو مکہ والوں کی طرف سے پہرہ پر مقر ر تھے انہوں نے دورسے اتنی بڑی روشنی دیکھی تووہ گھبراگئے اور اسی گھبراہٹ میں ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔کیاتم اندازہ لگاسکتے ہو کہ یہ کس کالشکرہے؟ اس پر پہلے توان کا خزاعہ کی طرف خیال گیا کہ شاید خزاعہ کے آدمی ہو ںگے جواپنابدلہ لینے کے لئے آئے ہیں۔لیکن ابوسفیا ن نے کہا۔خدا کاخوف کرو خزاعہ تواس کادسواں حصہ بھی نہیں۔یہ اتنا بڑالشکر ہے کہ خزاعہ کی اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔انہوں نے کہا پھرفلاں قبیلہ ہوگا۔کہنے لگا۔آخر وہ کیوں آتا