تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 447

کی تعلیمات پرمشتمل ہوں اوربہائیت میں ہوں قرآن کریم میں نہ ہوں۔رنگون سے ایک دفعہ ایک بہائی نے ایک کتاب شائع کی جس میں اس نے ذکرکیاکہ بہائیت نہایت اعلیٰ درجہ کی تعلیمات پر مشتمل ہے بہائیت کہتی ہے کہ عورت سے نیک سلوک کرو۔لڑکیوں کوتعلیم دو۔ظلم نہ کرو۔چوری نہ کرو۔جھوٹ نہ بولو۔میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ تم کو ئی ایک ہی مذہب ایسا بتادو۔جوکہتاہوکہ عورت سے نیک سلوک نہ کرو۔لڑکیوں کو تعلیم نہ دو۔ظلم کرو۔چوری کرو۔جھو ٹ بولو۔دنیا میں کوئی مذہب ایسانہیں جو اس قسم کی تعلیم دیتاہو۔دراصل بات یہ ہے کہ بہائیوں نے قرآن کریم کی تعلیم میں سے بعض پوائنٹ لے کر انہیں ایک علیحدہ تعلیم کے رنگ میں پیش کردیا ہے۔ورنہ ہرسچائی قرآن کریم میں موجود ہے۔اورپھر ان لوگوں کی اپنی حالت یہ ہے کہ جب عباس آفندی امریکہ سے واپس آیا تواس نے لکھا کہ میں سب سے پہلے بہاء اللہ کی قبر پرنماز پڑھنے گیا اورمیں نے وہاں سجدہ کیا۔اس قدر شرک میں ملوث ہوتے ہوئے یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم فیل ہوگیا ہے اوراس کی جگہ بہائیت نے لے لی ہے۔حالانکہ قرآن کریم وہ کتاب ہے جس نے دنیا سے بت پرستی کاقلع قمع کردیاتھا۔لیکن بہائیوں نے دوبارہ بت پرستی شروع کردی ہے۔کون عقلمند سمجھ سکتاہے کہ قبر کی مٹی پر سجدہ کرنا کسی کو فائدہ پہنچاسکتاہے۔اور کیاایسا مذہب اسلام کے آگے ٹھہر سکتاہے جس نے عر ب سے شرک کوکلی طور پر مٹادیاتھااورجس کے بانی نے مرض الموت میں باربار کہا کہ اللہ تعالیٰ یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کوسجدہ گاہ بنالیا۔ایسے عظیم الشان مذہب کے متعلق بہائیوں کایہ کہنا کہ اسلام فیل ہوگیاہے نہایت احمقانہ بات ہے۔قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ شَهِيْدًا١ۚ يَعْلَمُ مَا فِي تو کہہ دے۔میرے اور تمہارے درمیان بطورگواہ فیصلہ کرنے والا اللہ ہی کافی ہے۔اورجوکچھ آسمانوں میں ہے السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا اورزمین میں ہے اسے وہ جانتاہے۔اورجولوگ باطل پر عمل کرتے ہیں اوراللہ(تعالیٰ)کے احکام کاانکار بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۰۰۵۳ کرتے ہیں وہی گھاٹے میںپڑنے والے ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاکہ اللہ تعالیٰ تو تمہارے سامنے قرآن کریم کے ذریعہ ایک بہت بڑا