تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 446
نہیں ہوسکتیں۔پھر ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ وہ معنے دوسری قرآنی آیات کے خلاف نہ ہوں کیونکہ کلام الٰہی میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔پھر یہ دیکھنا ہے کہ عربی لغت ان کی تائید کرتی ہو۔کیونکہ قرآن کریم نے خود یہ بیان کیا ہے کہ وہ عربی زبان میں نازل ہواہے پس لغتِ عربی اوردوسری آیات جن معنوں کی تائید کرتی ہوں وہ غلط نہیں ہوسکتے۔ورنہ اپنے طور پرقیاس کرلینے سے تواندھیرآجاتاہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب ’’مِنَنُ الرَّحمٰن‘‘ کتاب لکھی اورثابت کیا کہ عربی زبان تما م زبانوں کی ماں ہے۔تویہ بات سن کر بعض لو گ اسی بات میں لگ گئے کہ وہ ہر لفظ کوقرآن کریم سے نکلاہواثابت کریں۔چنانچہ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک دوست سے کسی نے پوچھا کہ کیا قرآن میں مرچوں کا ذکربھی ہے۔انہوں نے کہا۔کیوں نہیں۔اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ میں مرجان مرچیں ہی تو ہیں۔پھران دنوں سائوتھ افریقہ میں لڑائی ہورہی تھی۔کسی نے پوچھا کہ اس لڑائی کاقرآن کریم میں کہیں ذکر ہے توانہوں نے کہا۔قَوْمًابُوْرًا میں یہی لوگ مراد ہیں کیونکہ سائوتھ افریقہ والوں کو بؤرکہتے ہیں۔اس قسم کے معنے کرناجائز نہیں اگراس قسم کے معنے بیان کرنے شروع کردیئے جائیں توتباہی آجائے۔لیکن جو معنے لغتِ عربی کے مطابق ہوں۔عقل ان کی تائید کرتی ہو۔اورباقی قرآنی آیات بھی ان کی مخالف نہ ہوں۔و ہ آج نکلیں یاآج سے چار پانچ سو سال بعد نکلیں و ہ درست ہوں گے۔بلکہ ہم تویہاں تک کہیں گے کہ اگرایک ایک آیت کے سوسو۔دودوسو معنے بھی کئے جائیں تووہ درست ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعے علوم کاایک خزانہ ہمیں عطافرمایا ہے اوراپنی مجد اور شان کے اظہار کے لئے اسے ایک گواہ بنایاہے۔اس زمانہ میں صرف بہائیوں کایہ دعویٰ ہے کہ قرآنی شریعت منسوخ ہوچکی ہے۔مگران کا یہ دعویٰ تب سچا سمجھاجاسکتاتھا جب بہائی لوگ اس میں سے پندرہ بیس باتیں ایسی نکال کر پیش کرتے جن پر عمل نہ ہوسکتا۔یابہائیت کی تعلیم میں سے پندرہ بیس باتیں ایسی دکھاتے جو قرآن کریم میں موجود نہ ہوتیں اوراس کی تعلیم سے بہتر ہوتیں۔مگروہ آج تک کوئی ایسی مثال پیش نہیں کرسکے۔پس قرآن کریم نہ فیل ہوانہ آئندہ کبھی فیل ہوگا۔بلکہ یہ قیامت تک فیل نہیں ہوگا۔زمین بدل سکتی ہے۔آسمان بدل سکتاہے۔ایک قوم کی جگہ دوسری قوم آسکتی ہے۔ایک حکومت مٹے تواس کی جگہ دوسری حکومت آسکتی ہے۔زبانیں مٹ سکتی ہیں لیکن قرآن کریم کبھی فیل نہیں ہوسکتا۔یہ خدا تعالیٰ کانازل کردہ آخری قانون ہے۔جو ہمیشہ قائم رہے گا۔اورجوشخص یہ کہتا ہے کہ یہ فیل ہوگیاہے وہ جھوٹ بولتاہے اورہم اب بھی اسے چیلنج کرتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کے چند ایسے احکام پیش کرے جوناقابل عمل ہوں یاوہ کچھ باتیں ایسی پیش کرے جونہایت مفید اور اعلیٰ درجہ