تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 431
ہمارا معبود ایک ہی ہے اورہم اسی کے فرمانبردار ہیں پس آپس میں جھگڑنے سے کیافائدہ۔ہم لوگوں کو مل کرخدائے واحد کی تبلیغ کرنی چاہیے۔چنانچہ دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس طریق کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہيٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْـًٔا وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ (آل عمران:۶۵) اے اہل کتاب! کم سے کم ایک ایسی بات کی طرف تو آجائو۔جو ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہم اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب کا درجہ دیا کریں۔پھر اگر وہ پھر جائیں تو ان سے کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم تو خدا کے فرمانبردار ہیں۔یہ ایک مختصر سی آیت ہے۔لیکن اگر غور سے کام لیا جائے تو اس میں اسلام کی حقیقت پسندی کا ایک نہایت ہی زبردست مظاہرہ کیا گیا ہے۔وہ لوگ جنہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا ہوا ہے جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو مسلمانوں کا بدترین دشمن قراردیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاالْیَھُوْدَوَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا۔(المائدۃ :۸۳)یعنی تُو مومنوں سے عداوت رکھنے میں یقیناًیہودیوں کو اوران لوگوں کو جو مشرک ہیں سب سے زیادہ سخت پائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی میں ہرقسم کے نیک سلوک کے باوجود یہود بڑی بے شرمی اوربے حیائی سے آپ کی ہرقسم کی مخالفتیں کرتے رہے۔اکثر جنگیں یہود کے اکسانے پر ہی ہوئیں بلکہ کسریٰ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے قتل کروانے پر بھی انہوں نے ہی اکسایاتھا گوخدا نے ان کامونہہ کالاکیا۔مگرانہوں نے اپنے خبث باطن کا اظہار کردیا۔غزوئہ احزاب کی لیڈری بھی یہودہی کے ہاتھ میں تھی۔ساراعرب اس سے قبل کبھی اکٹھانہیں ہواتھا۔دراصل مکہ والوں میں ایسی قوت نظام تھی ہی نہیں۔یہ مدینہ سے جلاوطن شدہ یہودی قبائل کاہی کارنامہ تھا کہ انہوں نے قریش اورغطفان اور بنوسلیم اوربنواسد اوربنوسعد اورعرب کے دوسرے زبردست قبائل کو اکٹھاکرکے مدینہ کے سامنے لاڈالا۔خدا نے اس وقت بھی ان کامنہ کالا کیا۔مگریہود نے اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل دشمن مکہ والے تھے۔مگرمکہ والوں نے کبھی دھوکاسے آپ کی جان لینے کی کوشش نہیں کی۔آپؐ جب طائف گئے اورملک کے قانون کے مطابق مکہ کے شہری حقوق سے آپ دستبردار ہوگئے مگرپھر آپ کو لوٹ کرمکہ میں آنا پڑاتواس وقت مکہ کاایک شدید ترین دشمن آپؐ کی امداد کے لئے آگے آیا۔اورمکہ میں اس نے اعلان کردیا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہریت کے حقوق دیتاہوں۔و ہ اپنے پانچوں بیٹوں سمیت آپ کے ساتھ ساتھ مکہ میں داخل ہوااوراس نے اپنے