تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 430
گند سے آلود ہ نہیں۔ہم ایسے لوگوں کا ذکر ہمیشہ نیکی سے کرتے ہیں اوران کی عزت کرتے ہیں اوران کوبلند درجہ پر بٹھاتے ہیں اوران سے اپنے بھائیوں کی طرح محبت کرتے ہیں۔‘‘ (لجّۃ النور روحانی خزائن جلد ۱۶ص ۶۷) پھر لکھا ہے:۔’’ ہماری اس کتاب میں اوررسالہ ’’ فریادِ درد‘‘میں وہ نیک چلن پادر ی اور دوسرے عیسائی مخاطب نہیں ہیں جو اپنی شرافت ذاتی کی وجہ سے فضول گوئی اور بدگوئی سے کنار ہ کرتے ہیں اوردل دکھانے والے لفظوں سے ہم کو دکھ نہیں دیتے اورنہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے ہیں اور نہ ان کی کتابیں سخت گوئی او ر توہین سے بھری ہوئی ہیں۔ایسے لوگوں کو بلاشبہ ہم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اوروہ ہماری کسی تحریر کے مخاطب نہیں صرف وہی لوگ ہمارے مخاطب ہیں خواہ وہ بگفتن مسلمان کہلاتے ہیں یاعیسائی۔جو حداعتدال سے بڑھ گئے ہیں اورہماری ذاتیات پربدگوئی سے حملہ کرتے یاہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ بزرگ میں توہین اور ہتک آمیز باتیں منہ پرلاتے اور اپنی کتابو ںمیں شائع کرتے ہیں سوہماری اس کتاب اوردوسری کتابوں میں کوئی لفظ یاکوئی اشارہ ایسے معززلوگوں کی طرف نہیں ہے جو بدزبانی اورکمینگی کے طریق کواختیار نہیں کرتے۔‘‘ (ٹائیٹل پیج ’’ ایام الصلح‘‘روحانی خزائن جلد ۱۴) یہ تشریح جو اوپر بیان کی گئی ہے اس کومدنظر رکھتے ہوئے اس جگہ اِلَّا کواستثناء متصل قراردیاجائے گا۔اوریہی نقطہ نگاہ مفسرین نے اختیارکیا ہے۔لیکن علامہ ابوالبقاءؒ نے لکھا ہے کہ اِلَّا کواستثنا ء منقطع بھی قراردیاجاسکتاہے۔اس صورت میں اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ کے یہ معنے ہوں گے کہ ایسے ظالموں سے جھگڑوہی نہیں بلکہ یہ کہہ دوکہ تم بھی خدا کی کتاب کے ماننے والے ہو اورہم بھی۔اورہماراتمہاراخداایک ہی ہے۔پھرلڑنے سے کیافائدہ ؟ ہم تم سے بحث ہی نہیں کرناچاہتے۔گویااگر وہ بدزبانی کریں تب بھی ان سے سختی کے ساتھ پیش نہ آئو بلکہ عفو سے کام لو اوران سے اعراض اختیارکرو۔پھر فرمایاہم تمہیں ایک اورنصیحت یہ کرتے ہیں کہ جب اہل کتاب سے تمہیں مقابلہ پیش آئے تو قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ۔تم انہیں یہ کہاکرو کہ ہم تواس کلام کوبھی مانتے ہیں جو ہم پر نازل ہوااوراس کلام پر بھی اصولی رنگ میں ایمان رکھتے ہیں جوتم پر نازل ہوا۔اور تمہارا معبوداور