تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 432
بیٹوں سے کہا۔کہ محمد ؐہمارادشمن ہی سہی پرآج عرب کی شرافت کاتقاضا ہے کہ جب وہ ہماری امداد سے شہر میں داخل ہوناچاہتا ہے توہم اس کے مطالبہ کو پوراکریں۔ورنہ ہماری عزت باقی نہیں رہے گی اوراس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اگر کوئی دشمن آپ پرحملہ کرناچاہے توتم میں سے ہرایک کو اس سے پہلے مرجاناچاہیے کہ وہ آپ تک پہنچ سکے۔یہ تھا عرب کاشریف دشمن۔اس کے مقابلہ میں بدبخت یہودی جس کو قرآن کریم مسلمانوںکاسب سے بڑادشمن قرار دیتا ہے اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر پربلایا او رصلح کے دھوکا میں چکی کاپاٹ مکان کی چھت پر سے پھینک کرآپ کومارناچاہا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے منصوبہ کی خبردے دی۔اورآپؐ سلامتی سے وہاں سے نکل آئے۔اسی طرح یہودی قوم کی ایک عورت نے آپ کی دعوت کی اورزہر ملاہواکھاناآپ ؐ کوکھلایا۔آپ کو خداتعالی نے اس موقعہ پر بھی بچالیا۔مگریہودی قوم نے اپنا اندرونہ ظاہر کردیا۔ظاہر ہے کہ ایسی بدترین دشمن قوم سے کسی تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتاتھا۔مگراتنے اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی قرآن کریم یہود کو دعوت اتحاددیتاہے اورکہتاہے کہ اے ہمارے رسول یہودیوں کو جو تیرے اتنے دشمن ہیں اورعیسائیوں کوجوتجھے جھوٹااور کذاب سمجھتے ہیں کہو کہ تم مجھے جھوٹاکہو مگرتم میرے خدا کوتومانتے ہو۔آئو ہم اس خدا کی وحدانیت قائم کرنے کے لئے اکٹھے مشن کھولیں اور توحیدکودنیا میں پھیلائیں۔لیکن اگراس دعوت اتحاد کے باوجود وہ پھر بھی اکٹھے نہ ہوں توتُوانہیں کہہ دے کہ ہم تو خداکے اس حکم کی تعمیل کریں گے۔زیر تفسیر آیت میں بھی اسی امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگراہل کتاب سے بحث ہوہی جائے۔توقرآنی دلائل کو کام میں لایاکرو۔لیکن بہتر یہی ہے کہ ان کو ادھر توجہ دلاتے رہوکہ بے ہودہ باتوں سے کیافائدہ ہم بھی موحد ہیں اور تم بھی موحد ہو۔ہم بھی خداکے کلام پر ایمان لاتے ہیں اور تم بھی خداکے کلام پر ایمان لاتے ہو۔بلکہ ہم تم سے بڑھ کرہیں کہ تم پر نازل ہونے والے کلام پر بھی ایمان لاتے ہیں اوراپنے اوپر نازل ہونے والے کلام پر بھی ایما ن لاتے ہیں۔پس بحثوں میں وقت ضائع کرنے سے کیافائدہ۔آئو ہم مل کر ان لوگوں میں خدائے واحد کی تبلیغ کریں جوخدائے واحد کو نہیں مانتے۔افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ تیرہ سوسال سے یہ تعلیم قرآن میں موجود ہے۔آج تک عیسائیوں اوریہودیوں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔میں ۵۵ ء میں بیماری کے علاج کے لئے یورپ گیاتو ایک کالج کے منتظمین نے مجھے لیکچر کی دعوت دی اور بہت سے گریجوایٹ وغیرہ لیکچر سننے کے لئے آئے۔انہوں نے مجھے انگریزی میں تقریر کرنے کے لئے کہا۔جس کی مجھے عادت نہ تھی۔مگران کے اصرار پرمیں نے ان کی بات مان لی۔چونکہ طالبعلم مختلف قوموں کے تھے کچھ جرمن سمجھتےتھے کچھ فرانسیسی کچھ سوس کچھ آسٹریلین۔کچھ یہودی۔اس