تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 38

بھی ایک لذت اور سرور محسوس کرتے ہیں۔اوران کو قابل نفرت چیز قرار دینے کی بجائے قابل تعریف سمجھنے لگ گئے ہیں۔آخر دنیا میں کیوں کوئی شخص کسی سانپ کے سوراخ میں اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا۔کیوں وہ جلتی ہوئی آگ میں نہیں کود جاتا۔کیوں وہ شیروں کی کچھار میں اپنے آپ کو نہیں پھینک دیتا۔کیوں وہ زہر کاجام اپنے ہونٹوں سے نہیں لگاتا۔اسی لئے کہ وہ سمجھتاہے کہ اگرمیں نے سانپ کے سوراخ میں اپنا ہاتھ ڈالاتومیری موت یقینی ہے۔اگر میں جلتی ہوئی آگ میں کوداتومیراجھلس جانایقینی ہے۔اگر میں نے اپنے آپ کو شیروں کی کچھا رمیں ڈال دیاتو میری ہلاکت یقینی ہے اگر میں نے زہر کا پیالہ اپنے منہ سے لگایا تومیرامرجانا یقینی ہے۔پھر اگر ایسا ہی ایما ن کسی شخص کا آخرت پر بھی ہوتووہ کب کسی گناہ کا دلیری کے ساتھ ارتکاب کرسکتاہے۔گناہوں پر دلیری اورنبیوں کے انکار کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ آخرت کا یقین دل میں نہیں ہوتا۔انسان بڑی دلیری سے کہہ دیتاہے کہ ’’ ایہہ جہان مٹھا اگلا کِن ڈٹھا ‘‘ یعنی اس جہان کے تومزے ہمیں لوٹنے دو۔اگلا جہان کس نے دیکھا ہے۔کہ ایک ان دیکھے دن کے لئے ابھی سے ہم ان لذائذ کوترک کردیں۔غرض اعمال کی خوبی یابرائی صرف جزاسزا کے عقیدہ سے تعلق رکھتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جگہ فرمایا ہے کہ جو لوگ آخرت کونہیں مانتے وہ اپنے برے اعمال کو بھی اچھا سمجھتے ہیں یعنی نیکی اور بدی میں وہ اصولاً کوئی فرق نہیں کرسکتے کیونکہ جب نتیجہ کوئی نہیں۔نہ اچھے کام کاکوئی انعام ہے اور نہ برے کام کی کوئی سزاہے تو پھر کسی فعل کا اچھا اور کسی کابراہوناکیا معنے رکھتاہے۔یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ تمام اعمال نیت کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔یوں توکافر بھی بعض اعمال ایسے کرتاہے جومومنوں کے اعمال کے مشابہ ہوتے ہیں لیکن چونکہ اس کے ساتھ نیت نیک نہیں ہوتی اورنہ خدا تعالیٰ کی رضامندی مطلوب ہوتی ہے اس لئے اس کاعمل اسے کسی انعام کا مستحق نہیں بناتا۔لیکن مومن کے عمل کا شاندار نتیجہ نکلتاہے کیونکہ مومن کے عمل کے ساتھ نیت نیک بھی شامل ہوتی ہے اورخدا تعالیٰ کی رضاکی جستجو بھی اس کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ۔پر بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب ان کے برے اعمال خدا تعالیٰ ہی ان کو خوبصورت کرکے دکھاتاہے تو پھر ان کا قصور کیاہوا۔سواس بارہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ درحقیقت یہ خدا تعالیٰ کی ایک سنت ہے او راس میں انسانی ترقی کے بہت سے راز مضمر ہیں۔کہ جب کوئی شخص کچھ مدت تک ایک کام کرتارہتاہے تواس کوا س کام سے ایک مناسبت پیداہوجاتی ہے اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگ جاتاہے۔اوریہاںاسی قانون قدرت