تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 39

کی طرف اشارہ ہے نہ کہ کسی خاص تقدیر کی طرف۔اوریہ بتایاگیا ہے کہ چونکہ انہوں نے سچے راستہ کو چھوڑ کر غلط راستہ اختیار کرلیاتھا اورانسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ جب وہ کوئی کام ایک لمبے عرصہ تک کرتاچلاجاتاہے تو اس کام کی محبت اس کے دل میں پیداہوجاتی ہے اوروہ اسے اچھا سمجھنے لگ جاتاہے۔اس لئے انہیں بھی اب اپنی بد عملی خوبصورت دکھائی دینے لگی ہے۔اور چونکہ فطرت انسانی کا خدا تعالیٰ ہی خالق ہے اس لئے زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فرماکر اسے خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کیاہے۔ورنہ اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں برے اعمال اچھے کرکے دکھاتاہے۔بلکہ وہ خود فطرت کی اعلیٰ درجہ کی خوبی کا غلط رنگ میں استعمال کرکے برے اعمال کوبھی اچھے سمجھنے لگ جاتے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے آگ خدا تعالیٰ نے اس لئے بنائی ہے کہ اس سے کھانا تیار کیا جائے یاسردی سے بچائو کاسامان مہیا کیا جائے۔لیکن اگر کوئی شخص آگ میں گرکر اپنے آپ کو جلا لے تویہ اس کا اپنا قصور ہوگا آگ کو پیداکرنے والے خدا کاقصورنہیں ہوگا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے انسانی ترقی کے لئے یہ قانون بنایا ہے کہ جوشخص کسی کام کاعادی ہو جاتا ہے رفتہ رفتہ اسے اچھا سمجھنے لگ جاتاہے اوراس سے اسے ایک طبعی موانست پیداہوجاتی ہے۔لیکن اگر کچھ لوگ اس قانون کو اس رنگ میں استعمال کریں کہ وہ برائیوں کا ارتکاب شروع کردیں اوراس قانون کے نتیجہ میں انہیں اپنی برائیاں ہی حسین نظر آنے لگیں توا س میں خود ان کا اپنا ہی قصور ہوگا صانع فطرت پر اس سے کو ئی اعتراض پیدا نہیں ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص نیک عمل کرتاہے تو خدا تعالیٰ کے ملائکہ اس کے قلب پر ایک سفید نقطہ لگادیتے ہیں۔دوسرانیک عمل بجالاتاہے تودوسراسفید نقطہ لگادیتے ہیں یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے اس کاتمام دل نو رانی ہو جاتا ہے اورہرقسم کی بدی اس میں سے دو رہوجاتی ہے۔اس کے بالمقابل جب کوئی شخص بدی کرتاہے توفرشتے اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگادیتے ہیں اورجب و ہ دوسری بدی کرتاہے تودوسراسیاہ نقطہ لگادیتے ہیں اورپھر اگروہ بدیوں میں بڑھتاجائے توان نقطوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کاتمام دل تاریک ہو جاتا ہے اوراس کی نیکیوں کا خرمن جل کرراکھ ہو جاتا ہے(مسلم کتاب الایمان باب أن الاسلام بدأ غریبا)۔یہ حدیث بھی اسی قانون فطرت کی تشریح ہے کہ جب کو ئی شخص نیکیوں پر دوام اختیار کرتاہے تو نیکی اس کے جسم کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔اورجب بدیوں پر دوام اختیار کرتاہے توبدیاں اس کے جسم کا ایک حصہ بن جاتی ہیں۔اورجوچیز انسان کے جسم کا ایک حصہ بن جائے وہ اسے اچھی ہی دکھائی دیتی ہے بری نظر نہیں آتی۔اگر اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان پر رحم کرتے ہوئے انسانی فطرت میں یہ بات نہ رکھ دیتاتونیکی اختیار کرنایاکسی کام میں دوام اختیار کرنا اس کے لئے بڑا مشکل ہوتا۔مگر