تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 393

وَ اِلٰى مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا١ۙ فَقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اورمدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو رسول بناکر بھیجا تھا۔(جب وہ آیا )تواس نے کہا۔اے میری قوم! ارْجُوا الْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ۰۰۳۷ اللہ کی عباد ت کرو اوراخروی زندگی کے وقت کو یادرکھو اورایسے مفسدانہ کام نہ کرو کہ ملک میں تمہارے کاموں کی وجہ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دَارِهِمْ سے فساد پھیل جائے۔اس پر انہوں نے اس کو جھٹلادیا اورایک ہلادینے والے عذاب نے ان کوپکڑ لیا۔جس کے نتیجہ جٰثِمِيْنَٞ۰۰۳۸ میں وہ اپنے گھروں میں (زمین سے ) چمٹے کے چمٹے رہ گئے۔تفسیر۔فرمایا۔ہم نے لوط ؑ کے بعد مدین کی طرف ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجاتھا اورانہوں نے بھی اپنی قوم کو یہی کہاتھا کہ ایک خدا کی پرستش کرو۔اوریو م آخرت پرایمان رکھو۔اوردنیا میں فساد مت پیداکرو۔وَلَاتَعْثَوْافِیْ الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ سے معلوم ہوتاہے کہ یہ قوم ڈاکہ زنی اورقتل وغارت کی خوگرتھی۔چونکہ مدین قوم کا مرکزی شہر جس کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے عرب۔شام اورمصر کے راستوں پر واقع تھا اوروہاں سے قافلے گذراکرتے تھے اس لئے یہ لو گ مسافروں کولوٹ لینے کے عادی تھے۔اس قیاس کی مزید تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ مدین قوم کے قبضہ میں قریب ہی ایک بڑابھاری جنگل تھا۔جس میں رہنے والوں کا قرآن کریم نے ’’ اصحاب الایکہ‘‘ نام رکھاہے۔اوریہ لوگ بھی حضرت شعیب علیہ السلام کے مخاطبین میں ہی شامل تھے اورہرشخص جانتاہے کہ جنگل میں ڈاکے ڈالنے زیادہ آسان ہوتے ہیں کیونکہ انسان اس میں بڑی آسانی سے چھپ سکتاہے۔پس یہ لوگ ڈاکہ زنی او رقتل و غارت کے ارتکاب سے بھی فساد پیداکررہے تھے او ربیع و شر اکرتے وقت تول اور ماپ میں بھی کمی بیشی کرکے فساد پیداکررہے تھے۔حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایامگران کی قوم نے ان نصائح کی کوئی پرواہ نہ کی او رنہوںنے آپ کو جھٹلادیا۔آخر ان پر ایک شدید زلزلہ آیا۔جس کے نتیجہ میں وہ اپنے گھروں میں دوزانو بیٹھے ہوئے رہ گئے۔حضرت شعیب ؑچونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت سے پہلے