تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 392
سے کہا کہ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا (مریم :۲۰)یعنی میں تیرے رب کاایک پیغامبرہوں تاکہ میں تجھے ایک پاک لڑکادوں۔حالانکہ سب جانتے ہیں کہ لڑکا خدادیا کرتاہے۔فرشتہ نہیں دیاکرتا۔پس جس طرح لِاَھَبَ لَکِ سے مراد صر ف لڑکے کی پیدائش کی خبر دینا ہے نہ کہ لڑکادینا۔اسی طرح اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ اور اِنَّا اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِيْنَ۔لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِيْنٍ۔مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْنَ۠یا اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ سے یہ مراد نہیں کہ ان رسولوں نے عذاب نازل کرناتھا بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی خبر کے ماتحت یہ اطلاع دیتے ہیں کہ لوط ؑ اوراس کے اکثر اہل بیت بچ جائیں گے۔اورمخالف تباہ ہوجائیں گے۔ورنہ عذاب تو خدا تعالیٰ نے ہی نازل کیاتھا۔جیسے سورئہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے اس امرکی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے۔فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّيْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍ۔مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ(ہود : ۸۳و۸۴)یعنی جب ہماراحکم آگیاتوہم نے اس بستی کے اوپر والے حصہ کو نیچے والا حصہ بنادیا۔اوراس پر سوکھی مٹی کے بنے ہوئے پتھروں کی یکے بعد دیگرے بارش برسائی جوتیرے رب کی تقدیر میں ان کے لئے ہی مقدر اورنامزد کئے گئے تھے۔اس جگہ بھی وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰيَةًۢ بَيِّنَةً لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ فرماکراللہ تعالیٰ نے اس عذاب کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔اوربتایا ہے کہ ہم نے اس ذریعہ سے عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے ایک بڑی عبرت کاسامان پیچھے چھوڑا۔یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ عذاب خدا تعالیٰ نے اتاراتھا۔ان رسولوں نے نہیں اتاراتھا۔وہ صرف خبر دینے آئے تھے۔اگران رسولوں نے عذاب اتاراہوتا تو خدا تعالیٰ یہ کیوں کہتا کہ ہم نے اس عذاب کے ذریعہ سے ایک کھلا نشان پیچھے چھوڑدیا کیونکہ اگررسولوں نے عذاب اتاراتھا تونشان انہوں نے چھوڑانہ کہ خدا تعالیٰ نے۔پس اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ یااسی قسم کی بعض دوسری آیات سے یہ مراد نہیں کہ وہ عذاب ان رسولوں نے نازل کیاتھا۔بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم اس بستی کے باشندوں پر خدائی عذاب کے نازل ہونے کی خبر دیتے ہیں۔ورنہ عذاب تو خدا تعالیٰ نے ہی نازل کرناتھا۔