تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 394
گذرے ہیں اس لئے ان کے ذکر سے خدا تعالیٰ نے نوح ؑ سے لےکر موسیٰ ؑ تک نبیوں کے آنے اوران کے ماننے والوں کے امتحان میں پڑنے کا ذکرفرما دیا۔وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَيَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ اورعاد کو بھی او رثمود کو بھی (ہماری طرف سے ایک ہلادینے والے عذاب نے پکڑ لیا) اور(اے اہل مکہ) تم پر ان کی زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَ بستیو ںکاحال ظاہر ہے۔اورشیطان نے ان کوان کے عمل اچھے کرکے دکھائے۔اوراس نے (یعنی شیطان نے ) كَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ۠ۙ۰۰۳۹ ان کو (اللہ تعالیٰ)کے راستہ سے روکا۔حالانکہ و ہ خوب سمجھتے تھے۔تفسیر۔اس میں بتایاکہ عاد او رثمود میں بھی بڑے بڑے بھاری نشانات ہیں۔کیونکہ یہ دونوں قومیں اپنے عروج کے زمانے میں دنیا کی معلم اوراستاد تھیں اورفنِ تعمیر میں بھی بڑی بھاری دسترس رکھتی تھیں۔چنانچہ قوم عاد کے نبی حضرت ہودؑ نے انہیں نصیحت فرمائی تھی کہ اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ۔وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ(الشعراء: ۱۲۹،۱۳۰) یعنی تم نے یہ کیاطریق اختیار کیاہواہے کہ تم ہراونچی جگہ پرنشان کھڑے کرتے ہو۔اور بڑ ے بڑے محلّات تعمیر کرتے ہو اورسمجھتے ہوکہ اس طرح تمہارانام ہمیشہ کے لئے قائم رہے گا۔میں نے خود عدن میں بعض پرانی عمار تیں دیکھی ہیں جوعادِ اولیٰ کے آثار میں سے ہیں اوروہاں کے مقامی لوگوں میں یہ روایتیں پائی جاتی ہیں کہ یہ عاد کی عمارتیں ہیں۔اسی طرح ثمود جو عاد ہی کی ایک شاخ تھے ان کے متعلق بھی قرآن کریم بتاتاہے کہ وہ میدانوں میں بڑے بڑے قلعے بناتے اور پہاڑوںکو کھود کھود کر رہائشی مکانات تیار کرتے تھے(سورئہ اعراف آیت ۷۵)مگرجب انہوں نے خدا تعالیٰ کے نبیوں کا مقابلہ کیااوراپنے ناشائستہ افعال کواچھا قرار دیا۔تو خدا تعالیٰ نے ان کو تباہ کردیااو رآج سوائے ان کے ٹوٹے پھوٹے آثا رکے جوعرب میں دکھائی دیتے ہیں ان کی طاقت اور شوکت کاکوئی نشان نہیں پایاجاتا۔