تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 391
يَّعْقِلُوْنَ۰۰۳۶ سامان عقل والے لوگوں کے لئے پیچھے چھوڑاہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔جب وہ لو گ وہاںسے چل کر ہمارے رسول حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے توان کو دیکھ کراسے بڑی تکلیف ہوئی اوراس کا دل تنگ ہوگیا کیونکہ اس کی قوم کے لوگوں نے غیر قوموں کے آدمیوں کی مہمان نوازی سے اسے منع کیاہواتھا۔چنانچہ قرآن کریم میں آتاہے کہ حضر ت لوطؑ کے مخالفین نے ان سے کہا اَوَلَمْ نَنْھَکَ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(الحجر:۷۱)کہ اے لوطؑ! کیا ہم نے تجھے غیرمعلوم مسافروں کو گھرمیں لانے سے نہیں روکاہوا؟ اس زمانہ میںشہرچھوٹے چھوٹے اور دور دور ہوتے تھے۔اورغیر معلوم مسافروں کے لانے سے ڈر ہوتاتھا کہ کہیں ڈاکہ نہ پڑے اور چونکہ سدوم کے باشندے خود بھی ڈاکوتھے وہ دوسروں کو بھی اپنے جیساسمجھتے تھے اورغیر معرو ف مسافروں کو شہر میں نہیں آنے دیتے تھے تاایسانہ ہوکہ رات کو وہ شہرکے دروازے کھو ل دیں اوردشمن غفلت کی حالت میں آکر حملہ کر دے۔حضرت لوط ؑ چونکہ مہمان نواز تھے وہ مسافروں کو لے آتے اورسمجھتے کہ اگر وہ باہر رہیں گے تو لوٹے جائیں گے۔اوریہ لوگ ان کوا س سے منع کیاکرتے تھے۔اس دفعہ جب پھر حضرت لوط ؑ ان لوگوں کو ساتھ لے آئے تویہ لوگ غصہ سے بھر گئے اور حضرت لوطؑ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے۔حضرت لوط ؑ کو بہت دکھ پہنچا۔اورآپ ڈرے کہ کہیں یہ لوگ مہمانوں کے سامنے مجھے شرمند ہ نہ کریں۔مگرانہوں نے کہا کہ ڈر نہیں اورغم نہ کر۔یعنی اب تجھے کسی آئندہ خطرہ سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کی تباہی کافیصلہ کرچکا ہے۔مگرچونکہ قوم کی تباہی کی خبر سے حضرت لوط علیہ السلام کاغمگین ہونا ایک طبعی امر تھا۔اس لئے انہوں نے ساتھ ہی آپ کو تسلی دی کہ لَاتَحْزَنْ آپ ان کی تباہی پر غم بھی نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی کے بیج کوضائع نہیں کرے گا بلکہ وہ آپ کواورآپ کے تمام اہل کو سوائے آپ کی بیوی کے اس عذاب سے محفوظ رکھے گا اوراس طرح ان کے ذریعہ پھر دنیا میں نیکی اورتقویٰ کی کھیتی سرسبز ہونی شروع ہوجائے گی۔اِنَّامُنَجُّوْکَ میں انہوں نے اس نجات کو اپنی طرف اس لئے منسوب کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسی غرض کے لئے بھجوائے گئے تھے کہ لوطؑ اوران کے اہل کوکسی محفوظ مقام پرپہنچا دیں۔باقی رہاان رسولوں کااس تباہی کو اپنی طرف منسوب کر نا ااوریہ کہنا کہ اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۔یہ ایسا ہی ہے جیسے سورئہ مریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرشتہ نے حضرت مریم