تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 390

اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ سے یہ مرادنہیں کہ ان کوکوئی خاص طاقت حاصل تھی بلکہ مرادیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے الہام کے ماتحت ہم اس بستی کی ہلاکت کی خبر دینے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔کیونکہ اس بستی کے لوگ ظالم ہیں۔اگربالفرض ان کو فرشتے بھی سمجھ لیاجائے جیساکہ مفسرین کہتے ہیں۔تب بھی فرشتے خود عذاب نہیں دیاکرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے عذاب کی خبر دیاکرتے ہیں۔پس اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ سے عذاب کی خبر دینا مراد ہے نہ کہ خود عذاب نازل کرنا۔قَالَ اِنَّ فِیْھَا لُوْطًا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ خبر سن کر کہا کہ اس بستی میں تولوط ؑ بھی ہے اوروہ خدا تعالیٰ کابرگزیدہ ہے۔انہوں نے کہا۔ہم اس بستی میں رہنے والوں کوخوب جانتے ہیں۔ہم اس کواور اس کے اہل کو سوائے اس کی بیوی کے جوپیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے نجات دیں گے۔یعنی انہیں کسی محفوظ مقام میں پہنچادیں گے۔کیونکہ ان لوگوں کو حضرت لوط ؑ کی آئندہ رہائش کے انتظام کے لئے ہی بھیجاگیا تھا۔وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ اورجب ہمارے رسو ل لو طؑ کے پاس آئے توان کی وجہ سے اسے دکھ پہنچا۔اورنیز ان کی وجہ سے ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اس کا دل تنگ ہوگیا اور(اس کی اس حالت کودیکھ کر )ان پیغام لانے والوں نے کہا کہ کسی (آئندہ)بات کاخوف اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِيْنَ۰۰۳۴اِنَّا مُنْزِلُوْنَ نہ کر۔اورنہ کسی گزشتہ واقعہ پرافسوس کر۔ہم تجھ کواور تیرے گھر والوں کو سوائے تیری بیوی کے جوپیچھے رہنے والوں عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا میں شامل ہوجائے گی نجات دینے کے لئے آئے ہیں۔ہم اس بستی پر ان کی نافرمانی کی وجہ يَفْسُقُوْنَ۰۰۳۵وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰيَةًۢ بَيِّنَةً لِّقَوْمٍ سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔اورہم نے اس بستی کے(واقعہ کے)ذریعہ سے ایک کھلی عبرت کا