تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 382
آپ کو بھائی بھائی کہنے لگ جائو لیکن یہ بت اس دنیا تک ہی ہیں۔اگلے جہان میں یہ تم کو کوئی فائدہ نہیں دیں گے بلکہ اگلے جہان میںپجاری بتوں کے تعلق سے اوربت پجاریوں کے تعلق سے انکار کرنے لگیں گے۔اورآپس میںایک دوسرے پر لعنت ڈالیں گے اورنتیجہ یہ ہوگاکہ کافر آگ میں داخل کئے جائیں گے اورکوئی ان کی مددنہیں کرسکے گا۔اس آیت میںبتایاگیا ہے کہ شرک کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں بلکہ صرف قوم کے لوگوں کو خوش کرنے اور ان کی تعریف حاصل کرنے کے لئے اختیارکیا جاتا ہے۔لیکن سچادین ہمیشہ دلیل پر قائم ہوتاہے اورسچے دین کے پیرولوگوں کو خوش کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کو مقد م رکھتے ہیں۔گویامشرک تو دنیاکودین پرمقدم کرتاہے لیکن مومن دین کودنیا پر مقد م کرتاہے۔مشرک لوگوں سے ڈرتاہے اوران کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے۔لیکن مومن صر ف خدا سے ڈرتا اوراسی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے۔یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا میں بتایا کہ کفر کی دوستی ایسی ناپائیدارہوتی ہے کہ دنیا میں بھی وہ لوگ جن کو خوش کرنے کے لئے خدااور اس کے رسول کی مخالفت کی جاتی ہے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اوراگلے جہان میں بھی یہ دوستیاں انسان کے کسی کام نہیں آسکتیں۔فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّيْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ اس (نصیحت )کے بعد لوط اس پر ایمان لے آئے اور(ابراہیمؑ نے )کہا۔میں تواپنے ر ب کی طرف ہجرت الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۰۰۲۷وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ وَ کر کے جانے والاہوں وہ یقیناً غالب (اور)بڑی حکمت والا ہے۔اورہم نے اسے اسحاق اوریعقوب بخشے جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي اوراس کی ذرّیت کے ساتھ نبوت اورکتاب مخصوص کردی اورہم نے اس کو دنیا میں بھی اس کا اجر بخشا اور الدُّنْيَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ۰۰۲۸ آخرت میں بھی وہ نیک بندوں میں شامل کیاجائے گا۔تفسیر۔حضر ت ابراہیم علیہ السلام کے آگ سے زندہ نکل آنے کامعجزہ دیکھ کر جولوگ آپ کی طرف