تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 381
ہے اس لئے ہرایک فہم اس فلاسفی سے آگاہ نہیں۔مگریادرکھو کہ ہریک چیز خدا تعالیٰ کی آواز سنتی ہے۔ہریک چیز پر خدا تعالیٰ کاتصرف ہے اورہریک چیز کی تمام ڈوریاں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔اس کی حکمت ایک بے انتہا حکمت ہے جو ہریک ذرہ کی جڑھ تک پہنچی ہوئی ہے اورہریک چیز میں اتنی ہی خاصیتیں ہیں جتنی اس کی قدرتیں ہیں۔جوشخص اس بات پرایمان نہیں لاتا وہ اس گروہ میں داخل ہے جو مَاقَدَرُوْااللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖٓ کے مصداق ہیں۔اور چونکہ انسان کامل مظہرِ اتم تمام عالم کاہوتاہے اس لئے تمام عالم اس کی طرف وقتاً فوقتاً کھینچاجاتاہے۔وہ روحانی عالم کاایک عنکبوت ہوتاہے اور تمام عالم اس کی تاریں ہوتی ہیں اورخوارق کایہی سرّہے۔‘‘ (برکات الدعا روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۲۹تا۳۱ حاشیہ) وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ اس (یعنی ابراہیمؑ) نے کہا۔تم نے اللہ (تعالیٰ )کے سوابتوں سے تعلق قائم کرچھوڑاہے (اور تمہارایہ فعل )صرف بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ ورلی زندگی میں دوسرے مشرکوں سے محبت بڑھانے کے لئے (ہے)پھر قیامت کے دن تم میں سے بعض بعض بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ يَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١ٞ وَّ مَاْوٰىكُمُ کاانکا رکریں گے اور تم میں سے بعض بعض پرلعنت ڈالیں گے اور تمہاراٹھکانہ دوزخ ہوگا اورجن کوتم مددگارسمجھتے ہو النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَۗۙ۰۰۲۶ ان میں سےکو ئی تمہاری مدد کو نہ آئے گا۔تفسیر۔اس میں بتایاکہ باوجو د اس کے کہ ابراہیم ؑ کو اس کی قوم نے آگ میں ڈال دیاتھا جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے معجزانہ رنگ میں نجات دی پھر بھی ابراہیم ؑ توحید کاایساعاشق تھا کہ آگ سے نجات پاتے ہی اس نے اپنی قوم کو پھر سمجھانا شروع کردیا اورکہا کہ تم نے توبتوں کو اس لئے خدابنالیا ہے تاکہ اس دنیا میں وہ تمہارے درمیان محبت پیداکرنے کاموجب ہوں۔یعنی ایک مرکزی نقطہ بن جائے۔اور تم سب ایک بت کے پجاری اپنے