تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 383
راغب ہوئے تھے ان میں سے ایک حضرت لوط ؑ بھی تھے جوحضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھائی حاران کے بیٹے تھے۔(پیدائش باب ۱۲آیت ۵) چنانچہ فرماتا ہے کہ اس نظارہ کو دیکھنے کے بعد لوط ؑ ابراہیم ؑ پرایمان لے آیا اورپھرابراہیم ؑ نے لوگوں میں اپنی ہجرت کااعلان کردیا۔اورکہا کہ میں خدا تعالیٰ کی خاطر اب اپنا وطن بھی چھوڑ رہاہوں اورمجھے یقین ہے کہ میراخداجوغالب ہے اورجس کے تمام کام حکمتوں پر مبنی ہیں مجھے بھی غلبہ عطافرمائے گااور میری اس ہجرت کو رائیگاں نہیں جانے دے گا۔بلکہ اس کے اعلیٰ نتائج عطافرمائے گا۔پھر فرماتا ہے۔جب ابراہیمؑ نے خداکے لئے اپنے وطن او رعزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑاتو وَھَبْنَالَہٗ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ۔ہم نے اس کے اخلاص کو دیکھ کر اسے اسحاق ؑ جیسابیٹااوریعقوبؑ جیساپوتاعطا کیا۔اوراس کی ذریّت میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔تاریخ سے ثابت ہے اوربائیبل بھی اس امر پر گواہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے غیرقوموں میں بھی نبی آتے رہے ہیں پس جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَکے صرف یہ معنے ہیں کہ ابراہیمؑ کی ذریت میں سے نبی آتے رہے اوران کاسلسلہ بند نہیں ہوا۔یہ معنے نہیں کہ دوسری قوموں میں نبی نہیں آئے۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّاخَلَافِیْھَانَذِیْرٌ (الفاطر : ۱۵)یعنی دنیا کی کوئی قوم نہیں جس میں ہماری طرف سے کوئی نبی مبعوث نہ ہواہو۔اسی طرح فرماتا ہے وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ(الرعد:۷) دنیا کی ہر قوم کی طرف ہادی اورراہنماآتے رہے ہیں۔اوراللہ تعالیٰ اس کوکسی زمانہ سے مخصوص نہیں کرتا۔پس اس آیت کے یہ معنے نہیں کئے جاسکتے کہ نبوت اور کتاب کوان معنوں میں آپ کی ذریّت سے مخصوص کردیاگیا کہ کسی غیر قو م میں نبی نہیں آئے گا۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ابراہیمؑ کے اخلاص کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایاکہ اَلنَّبِیْ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کی خبر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دی تھی اورجن کو ایک آتشی شریعت دی جانے والی تھی وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے ہوں۔اور چونکہ ان کے بعد کوئی نبوت تامہ مستقلہ نہیں آئےگی بلکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلّی اور بروزی نبوت آئے گی اس لئے قیامت تک آ پ کے ذریعہ سے اب نبوت ابراہیم کے خاندان کے ساتھ چسپاں ہوگئی۔مادی لحاظ سے بھی اور اس لحاظ سے بھی کہ کوئی شخص حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک مہرِ تاباں یعنی محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روشنی لئے بغیر بارگاہ الٰہی تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔وَاِنَّہٗ فِیْ الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ کے ایک معنے تویہ ہیں کہ آخرت میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کوبڑے درجات حاصل ہوں گے اوروہ منعم علیہ گروہ میں شامل کئے جائیں گے مگراس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ آخری زمانہ