تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 380

بھی فرض ہے کہ ہم اس بات کو بھی مان لیں کہ اس کی تمام حکمتوںاور قدرتوں پر ہم کو علم حاصل ہونا ممتنع اورمحال ہے۔سوہم اس کی ناپیداکنارحکمتوںاور قدرتوں کے لئے کوئی قانون نہیں بناسکتے۔اورجس چیز کی حدود ہمیں معلوم ہی نہیں اس کی پیمائش کرنے سے ہم عاجز ہیں۔ہم بنی آدم کی دنیا کا نہایت ہی تنگ اور چھوٹاسادائرہ ہیں اورپھر اس دائرہ کابھی پوراپوراہمیں علم حاصل نہیں۔پس اس صورت میں ہماری نہایت ہی کم ظرفی اورسفاہت ہے کہ ہم اس اقل قلیل پیمانہ سے خدا تعالیٰ کی غیر محدود حکمتوںاور قدرتوں کوناپنے لگیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ اول روحانی خزائن جلد ۱ حاشیہ نمبر ۱۱ص ۴۸۲تا۴۸۸) پھر یہی مضمون ’’برکات الدعا‘‘میں بھی آپ نے بیان فرمایا ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں :۔’’اس جگہ ایک اورسرّ یاد رکھنے کے لائق ہے اوروہ یہ ہے کہ اولیاء سے جوخوارق کبھی اس قسم کے ظہور میںآتے ہیں کہ پانی ان کو ڈبو نہیں سکتا اور آگ ان کو نقصان نہیں پہنچاسکتی اس میں بھی دراصل یہی بھید ہے کہ حکیم مطلق جس کے بے انتہااسرار پر انسان حاوی نہیں ہوسکتااپنے دوستوں اور مقربوں کی توجہ کے وقت کبھی یہ کرشمہء قدرت دکھلاتاہے کہ وہ توجہ عالم میں تصرف کرتی ہے اورجن ایسے مخفی اسباب کے جمع ہونے سے مثلاً آگ کی حرارت اپنے اثر سے رک سکتی ہے خواہ وہ اسباب اجرام علوّی کی تاثیریں ہوںیاخود مثلاًآگ کی کوئی مخفی خاصیت یااپنے بدن کی ہی کوئی مخفی خاصیت یاان تمام خاصیتوں کامجموعہ ہووہ اسباب اس توجہ اور اس دعاسے حرکت میں آتے ہیں تب ایک امر خارق عادت ظاہرہوتاہے مگراس سے حقائقِ اشیاء کااعتبار نہیں اٹھتا اورنہ علوم ضائع ہوتے ہیں۔بلکہ یہ توعلوم الٰہیہ میں سے خود ایک علم ہے اوریہ اپنے مقام پر ہے اورمثلاً آگ کامحرق بالخاصیت ہونا اپنے مقام پر بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ روحانی مواد ہیں جو آگ پرغالب آکر اپنااثر دکھاتے ہیں اوراپنے وقت اور محل سے خاص ہیں۔اس دقیقہ کو دنیا کی عقل نہیں سمجھ سکتی کہ انسانِ کامل خدا تعالیٰ کی روح کاجلوہ گاہ ہوتاہے اورجب کبھی انسان کامل پر ایک ایسا وقت آجاتاہے کہ وہ اس جلوہ کا عین وقت ہوتاہے تواس وقت ہرایک چیز اس سے ایسی ڈرتی ہے جیساکہ خدا تعالیٰ سے۔اس وقت اس کو درندہ کے آگے ڈال د و۔آگ میں ڈال دووہ اس سے کچھ بھی نقصان نہیں اٹھائے گا۔کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کی روح اس پر ہوتی ہے اورہریک چیز کاعہد ہے کہ اس سے ڈرے یہ معرفت کاایک آخری بھید ہے جو بغیر صحبتِ کاملین سمجھ میں نہیں آسکتا۔چونکہ یہ نہایت دقیق اور پھرنہایت درجہ ناد رالوقوع