تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 379
یہ خدا تعالیٰ کی معجزہ نماحفاظت ہے جب تک کہ ہم وہاں سے نکل نہ آئے شہتیر گرنے سے محفوظ رہا۔ایسا ہی ایک دفعہ ایک بچھو میرے بسترکے اندرلحاف کے ساتھ مراہواپایاگیا اوردوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتاہواپکڑاگیا۔مگرہردوبار اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے ضررسے محفوظ رکھا۔ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی مجھے خبربھی نہ ہوئی ایک اَورشخص نے دیکھااو ربتلایا اوراس آگ کو بجھادیا۔خدا تعالیٰ کے پاس کسی کے بچانے کی ایک راہ نہیں بلکہ بہت راہیں ہیں۔آگ کی گرمی او ر سوزش کے واسطے بھی کئی ایک اسباب ہیں اوربعض اسباب مخفی درمخفی ہیں جن کی لوگوں کوخبرنہیں اورخدا تعالیٰ نے وہ اسباب اب تک دنیا پر ظاہر نہیں کئے۔جن سے اس کی سوزش کی تاثیر جاتی رہے۔پس اس میں کون سے تعجب کی بات ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ پرآگ ٹھنڈی ہوگئی۔‘‘(الحکم ۱۰؍جون ۱۹۰۷ ) اسی طرح ’’براہین احمدیہ ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں :۔’’برہموسماج والوں کی یہی بھاری غلطی ہے کہ وہ خدائےتعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں اور ربوبیتوں کواپنے تنگ اورمنقبض تجار ب کے دائرہ میں گھسیڑناچاہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جو امور ایک قانون مشخص مقررکے نیچے آجائیں ان کامفہوم محدود ہونے کولازم پڑاہواہے اورجوحکمتیں او رقدرتیں ذات غیر محدود میں پائی جاتی ہیں ان کاغیر محدود ہوناواجب ہے۔کیاکوئی داناکہہ سکتاہے کہ اس ذات قادرِ مطلق کو اس اس طور پر بنانایا د ہے اوراس سے زیادہ نہیں۔کیااس کی غیر متناہی قدرتیں انسانی قیاس کے پیمانہ سے وزن کی جاسکتی ہیں ؟ یااس کی قادرانہ اورغیرمتناہی حکمتیں تصرف فی العالم سے کسی وقت عاجز ہوسکتی ہیں۔بلاشبہ اس کا پُرزور ہاتھ ذرہ ذر ہ پرقابض ہے۔اور کسی مخلوق کاقیام اوربقااپنی مستحکم پیدائش کے موجب سے نہیں بلکہ اسی کے سہارے اورآسرے سے ہے۔اوراس کی ربانی طاقتوں کے آگے بے شمار میدان قدرتوں کے پڑے ہیں۔نہ اندرونی طور پر کسی جگہ انتہاہے اور نہ بیرونی طورپر کوئی کنارہ ہے۔جس طر ح یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ایک مشتعل آگ کی تیزی فروکرنے کے لئے خارج میں کوئی ایسے اسباب پیداکرے جن سے اس آگ کی تیزی جاتی رہے اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس آگ کی خاصیت احراق دور کرنے کے لئے اسی کے وجود میں کوئی ایسے اسباب پیداکردے جن سے خاصیتِ احراق دو رہوجائے کیونکہ اس کی غیرمتناہی حکمتوں اور قدرتوں کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔اورجب ہم اس کی حکمتوں اورقدرتوںکو غیر متناہی مان چکے توہم پر یہ