تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 370
سے تاریخ عالم کاپتہ لگائو پھر تم کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکوگے۔يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَرْحَمُ مَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ اِلَيْهِ تُقْلَبُوْنَ۰۰۲۲ وہ جس کو چاہتاہے عذاب دیتاہے اورجس پر چاہتاہے رحم کرتاہے اوراسی کی طرف تم کو لوٹاکرلایاجائے گا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔وہ جس پر چاہتاہے عذاب نازل کرتا ہے اور جس پرچاہتاہے رحم کرتاہے اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اندھادھند عذاب نازل کرتاہے اوراندھادھند رحم کرتاہے۔کیونکہ دوسری جگہ قرآن کریم میں صاف لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں پررحم کرتاہے جوایک دوسرے کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں اوربرائیوں سے بچنے کی نصیحت کرتے ہیں اورنماز باجماعت قائم کرتے اور زکوٰ ۃ دیتے اور خدااوراس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ يُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔(التوبۃ : ۷۱)یعنی مومن مرداورمومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔وہ نیک باتوں کاحکم دیتے ہیں اوربری باتوںسے روکتے ہیں اورنماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اوراللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔یہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان پر رحم کرے گا۔اللہ تعالیٰ غالب اوربڑی حکمت والا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔عَذَابِيْۤ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ۔(الاعراف :۱۵۷)یعنی میں اپناعذاب جس کوچاہتاہوں پہنچاتاہوں۔اورمیری رحمت ہرایک چیز پرحاوی ہے۔پس میں ضرور اس کوان لوگوں کے لئے لکھوں گاجو تقویٰ اختیار کرتے اورزکوٰۃ دیتے اور ہماری آیتوں پرایمان لاتے ہیں۔ان آیات سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ اندھادھند رحم نہیں کرتا بلکہ جولوگ اپنے اعمال کی وجہ سے اس کے رحم کے مستحق ہوتے ہیں صرف انہی پر رحم کرتاہے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے عذاب کے بارہ میں بھی یہ اصول بیان فرما دیاہے کہ وہ کسی کو اندھادھند عذاب نہیں دے گا بلکہ صرف ایسے ہی لوگ عذاب میں مبتلاکئے جائیں گے جنہوں نے خدا تعالیٰ اوراس کے رسول کی تکذیت کی ہو گی۔چنانچہ فرماتا ہے۔فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ يَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا۔(النساء : ۱۷۴) یعنی