تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 371

وہ لوگ جومومن ہوں گے اورانہوں نے نیک اورمناسب حال اعمال کئے ہوں گے۔وہ انہیں ان کے اعمال کے پورے پورے بدلے دے گا اوراپنے فضل سے انہیں زائد انعامات سے بھی سرفراز فرمائے گا۔لیکن جن لوگوں نے خدائی ہدایات سن کر برامنایاہوگا اورتکبر سے کام لیاہوگاوہ انہیں درد ناک عذاب دے گا۔اسی طرح سورۃ غاشیہ میں فرماتا ہے۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ۔اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَ۔فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ (الغاشیۃ:۲۳تا۲۵) یعنی اے محمدؐ رسول اللہ !تُوان لوگوں پر داروغہ کے طورپر مقررنہیں۔ہاں جس نے پیٹھ پھیر لی اور کفرکامرتکب ہوا اللہ تعالیٰ اس کے کفر کے نتیجہ میں اسے بہت بڑاعذاب دے گا۔اسی طرح فرماتا ہے۔فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيْهَا زَفِيْرٌ وَّ شَهِيْقٌ۔خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ۔وَ اَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ۔( ھود: ۱۰۷تا۱۰۹)یعنی جو بدبخت ثابت ہوں گے وہ آگ میں داخل ہوں گے۔اس میں کسی وقت توان کے درد سے لمبے لمبے سانس نکل رہے ہوں گے۔اور کسی وقت ہچکی کی حالت کے مشابہ سانس نکل رہے ہوںگے۔وہ اس میں اس وقت تک رہتے چلے جائیں گے جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں۔سوائے اس عرصہ کے جوتیرارب چاہے۔تیرارب جو چاہتاہے اسے کر کے رہتاہے۔اورجو خوش نصیب ثابت ہوں گے۔وہ جنت میں ہوں گے۔و ہ اس میں اس وقت تک رہتے چلے جائیں گے جب تک آسمان اورزمین قائم ہیں سوائے اس وقت کے جو تیرارب چاہے۔یہ ایسی عطاء ہے جوکبھی کاٹی نہیں جائے گی۔سورئہ فرقان میں بھی فرماتا ہے۔وَ يَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيْهِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا۔يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا۔(الفرقان:۲۸،۲۹)اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کوکاٹے گا اورکہے گا۔اے کاش! میں رسول کے ساتھ چل پڑتا۔وائے بدبختی! میں فلاں شخص کودوست نہ بناتا۔غرض قرآن کریم نے صرف یہی نہیں بتایاکہ وہ کن لوگوں پر رحم کرے گا بلکہ اس نے یہ بھی بتادیا ہے کہ وہ کن لوگوں کوعذاب دے گا۔ایسی صورت میں کسی پر اندھا دھند رحم کرنے یا کسی کو اندھادھند سزادینے کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔پھراگر و ہ اندھادھند سزادے تو یہ ظلم ہوگااور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَ نَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ۔( الانبیاء: ۴۸)یعنی ہم قیامت کے دن ایسے تول کے سامان پیداکریں گے کہ جن کی وجہ سے کسی جان پر ذراسابھی ظلم نہیں کیاجائے گا۔اوراگرایک رائی کے دانہ کے