تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 340

کسی طرح سے ہماری سزاسے بچ جائیں گے ان کایہ خیا ل بالکل باطل ہے۔دنیا میںکو ئی شخص دھوکاسے خدا تعالیٰ کی سزاسے نہیں بچ سکتا۔یہ آیت بتاتی ہے کہ دوسرے لوگوں کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا توالگ رہا انسان خود اپنی ذات کے متعلق بھی صحیح فیصلہ کرنے سے قاصر رہتاہے۔چنانچہ بعض دفعہ وہ ہوتابد ہے لیکن سمجھتااپنے آپ کو نیک ہے اورخیال کرتاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا۔حالانکہ اس کایہ فیصلہ جھوٹاہوتاہے۔اوروہ عذاب میں پکڑاجاتاہے اوراس دن اسے پتہ لگتاہے کہ میں اپنے آپ کو غلط طورپر مومن سمجھتارہاہوں۔یہ مقام خاص خاص مومنوں کو حاصل ہوتاہے کہ وہ پہلے سے اپنے ایمان کی پختگی کے واقف ہوجاتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا ذکرکرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ۔(الاحزاب : ۲۴) یعنی صحابہؓ میں سے بعض توایسے ہیں جنہوں نے اپنے دعوٰئے ایمان کوثابت کردیاہے۔اوربعض اس موقعہ کے منتظر ہیں جب وہ اپنے دعو ٰئے ایمان کو ثابت کردیں گے۔چنانچہ ایک حدیث میں آتاہے کہ حضرت مالک بن انس ؓ ایک انصاری صحابی جوغلطی کی وجہ سے جنگِ بد رمیں شامل ہونے سے رہ گئے تھے۔جب انہوں نے بدری صحابہؓ سے بدر کی جنگ کے کارنامے سنے توجوش سے اٹھ کرٹہلنے لگ گئے اورکہنے لگے یہ کیابات ہے جب مجھے موقعہ ملاتومیں بتائوں گا کہ مومن کیسی قربانیاں کرتاہے۔چنانچہ اُحد کی لڑائی میں وہ شامل ہوئے اور جب پیچھے کی طرف سے یک دم حملہ کی وجہ سے مسلمانوں کے قدم اُکھڑ گئے۔اوروہ میدان جنگ سے ہٹ کر کچھ فاصلہ تک آگئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے اورکفار کے پتھرائو کی وجہ سے زخمی ہوکر دوسرے زخمیوں کے جسموں پر گر گئے اوراتنے میں کچھ اورلوگ زخمی ہوکر آپؐ پر گر گئے اورچند منٹ کے بعد لوگوں نے آپ کوغائب دیکھ کرسمجھ لیا کہ آپؐ شہید ہوگئے ہیں توبعض لوگوں نے دوڑ کرمدینہ میں جواُحد کے قریب ہی تھا یہ مشہور کردیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں۔یہ خبران لوگوں پربھی جو میدان جنگ سے صرف تھوڑے فاصلہ پرپیچھے تھے بجلی کی طرح گری۔ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔وہ ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔کہ مالک بن انسؓ جنہوں نے جنگ سے پہلے کھانانہیں کھایاتھا۔دوتین کھجوریں کھاتے ہوئے ان کے پاس سے گذرے۔اور چونکہ وہ اس وقت میدان جنگ سے آئے تھے جبکہ مسلمان فاتح ہوچکے تھے اورکفار شکست کھاچکے تھے اور حضرت عمر ؓ اس وقت میدان جنگ سے آئے تھے جبکہ پیچھے کی طرف سے دشمن نے دوبارہ حملہ کیاتھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوکر گر گئے تھے اوربعض صحابہؓ نے سمجھ لیاتھا کہ آپ شہید ہوگئے ہیں اس لئے آپ رورہے تھے اورمالکؓ خوش تھے کہ ہم کو فتح نصیب ہوچکی ہے۔پس ان