تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 331

پر مظالم ہوئے۔تووہ جزیرہ سائپر س میں چلے گئے پھر مظالم ہوئے تووہ روماچلے گئے۔پھر بھاگے تومصر میں آئے۔مصر میں مظالم ہوئے تو پھررومابھاگ گئے۔پھررومامیں مظالم ہوئے توصقلیہ میں آگئے۔اس طرح متواتر تین سوسال تک اس جماعت کو اپنے مرکز بدلنے پڑے۔اسی طرح بنی اسرائیل پر بخت نصر کے حملہ کے موقعہ پر اتنی عظیم الشان تباہی آئی کہ ان کے تمام مقدس مقامات گرادیئے گئے۔شہر مٹادیئے گئے۔اورساری قو م کوپکڑ کرغلام بنادیا گیا۔یہ کتنا بڑاابتلاء ہے کہ کوئی شخص بھی آزاد اورحریت والا نہ رہا۔قوم غلام بن گئی۔معبد گرادیاگیا۔متبر ک مقامات مٹادیئے گئے۔شہروں کو آگ لگادی گئی۔اور تمام فلسطین اور شام کے حصے ویرانہ بن کر رہ گئے۔مگراس کے باوجود ان کی کوشش اورجدوجہد برابر جاری رہی۔چنانچہ قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آتاہے (دیکھو سورئہ بقرہ آیت ۲۶۰)۔جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کاایک نبی ایک مردہ بستی کے پاس سے گذرااو راس نے کہا کہ خدایایہ مردہ بستی دوبارہ کس طرح زندہ ہوگی؟ اللہ تعالی نے انہیں کشف میں سوسال کانظار ہ دکھایا اوربتایا کہ سوسال کے بعد میں پھر اسے زند ہ کردوں گا۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شبہ دورکرنے کے لئے کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ میں واقعہ میںسوسال سوتارہاہوں۔اللہ تعالیٰ نے کہا دیکھ لوتمہاراگدھابھی زند ہ ہے اورکھانابھی سلامت ہے۔اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ ایک کشفی نظارہ ہے۔جو تمہیں دکھایاگیا ہے۔چنانچہ جس طرح رؤیا میں بتایاگیاتھا عین سوسال کے بعد فارس او رمید کابادشاہ جس کانام سائر س تھا بابل پرحملہ آورہوااور چونکہ اندر کے قلعوں تک پہنچنا اس کے لئے مشکل تھا۔اس نے پیغام رسانی کی اور یہودکو اپنے ساتھ ملاناچاہا۔ا س وقت کے انبیاء نے یہود کو اس بادشاہ کے ساتھ ملنے کی اجازت دے دی۔اس کا بھی قرآن کریم میں ذکر آتاہے اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک زمانہ ایساگذراہے جس میں بعض انبیاء کے حکم کے ماتحت یہودیوں نے خفیہ سوسائٹیاں بنائیں۔جن میںصرف مرد شامل کئے جاتے تھے عورتیں شامل نہیں کی جاتی تھیں (دیکھو سورئہ بقرہ آیت ۱۰۳)۔یہ اس زمانہ کاواقعہ ہے جس میں انبیاء نے یہ فیصلہ دیاکہ یہود بادشاہ کے ساتھ مل جائیں۔چنانچہ انہوں نے خفیہ کوششیں کیں۔نتیجہ یہ ہواکہ جب فارس اور مید کابادشاہ حملہ آور ہواتواند ر سے یہود نے بغاوت کر دی اوران کی مدد سے بادشاہ کو فتح حاصل ہوئی۔اوراس نے اعلان کردیا کہ یہود کو اپنے شہروں میں بسنے اورپھر دوبارہ اپنے معابد اورمقدس مقامات وغیرہ بنانے کی اجازت ہے۔بلکہ اس نے یہ بھی کہا کہ اس پر جس قدر روپیہ خرچ ہو وہ سرکاری خزانہ میں سے دیاجائے (ہسٹورینز ہسٹری آف داورلڈ جلد۲صفحہ ۱۲۶)۔یہ وہی واقعہ ہے جو آیت مَاکَفَرَ سُلَیْمَانُ کے دوسرے حصہ میں بیان ہواہے۔پہلے حصہ میں یہ ذکرکیاگیا ہے کہ یہودی لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں بھی مخفی کاروائیاں کرتے ہیں۔اوران