تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 332
کاخیال ہے کہ جیسے مید اور فارس کے بادشاہ کے ساتھ مل کر انہوں نے نینوہ کی حکومت کو تباہ کردیاتھا اسی طرح اب بھی وہ کسریٰ کے ساتھ مل کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تباہ کردیں گے۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ تم نے دودفعہ خفیہ سوسائٹیاں بنائی ہیں ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ کے زمانہ میں اور دوسری دفعہ حجی اور زکریاہ کے زمانہ میں۔پہلی دفعہ جب تم نے خفیہ سوسائٹی بنائی تو خدا کانبی تمہارے مقابلہ میں تھا اور تم اس کے مخالف تھے۔اور دوسرے موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہاروت اور ماروت تمہارے ساتھ تھے۔یہ درحقیقت ان انبیاء کے صفاتی نام ہیں جو بنی اسرائیل کی جلاوطنی کے زمانہ میں ان کوواپس لانے پر مقرر ہوئے تھے۔ھاروت ھرت سے نکلاہے جس کے معنے پھاڑنے کے ہیں۔اورماروت مَرَتَ سے نکلا ہے جس کے معنے توڑ دینے کے ہی (تاج العروس) گویاان کاکام حکومت کو پھاڑنا اور طاغوتی طاقتوں کو توڑناتھا۔ان دومثالوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم ایک نبی کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے تو تم ہارے اور جب انبیاء تمہارے ساتھ رہے اس وقت تم اپنے مخفی منصوبوں میں کامیاب ہوئے۔اب تمہیں غو رکرناچاہیے کہ تمہارے مقابلہ میں مدعیء نبوت ہے یاتمہارے ساتھ مدعیٔ نبوت ہے۔اگرتو وہ تمہارے مقابلہ میں ہے توتمہاری کوششیں ایسی ہی ہیں جیسی تم نے سلیمانؑ کے وقت میں کیں اور اگریہ مدعیٔ نبوت تمہارے ساتھ ہے تو پھر بے شک تمہاری مثال ایسی ہوسکتی ہے جیسے خور س کے حملہ کے وقت ہارو ت اور ماروت کے زمانہ میں کو ششیں کی گئیں۔اور چونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کانبی تمہارے مقابلہ میں ہے اس لئے تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ تمہارے ساتھ وہ واقعہ گذرے گا جو سلیمان کے وقت ہوا۔چنانچہ ایسا ہی ہوااور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں یہود بالکل تباہ ہوگئے۔غرض ا س وقت بنی اسرائیل پرایسی تباہی آئی تھی کہ انبیاء تک بھی حیران تھے کہ ا ب یہ قوم دوبارہ کس طرح زندہ ہوگی۔چنانچہ حزقیل نبی نے یہی کہاتھا کہ خدایاتواس کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے بتایاکہ سوسال کے بعد یہ قوم پھر زندہ ہوجائے گی۔تواللہ تعالیٰ کے انبیاء کی جماعتوں پر یہ اوقات ہمیشہ آئے اوردرحقیقت یہی اوقات اس کے دعویٔ ایمان کے صدق اورکمال پردلالت کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو بھی سالہاسال تک ایسی تکالیف میں سے گذرنا پڑاجوانتہائی درد انگیز تھیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہؓ کی ایک جماعت ایک جگہ بھیجی مگران لوگوں نے جن کی طرف وہ بھیجے گئے تھے دھوکہ دے کر ان پر حملہ کردیا۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ اب اپنی جانوں پر کھیل جائیں گے۔توانہوں نے کہا خدا کی قسم ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم نیچے اترآئو۔(وہ اس وقت ایک پہاڑی ٹیلے پر چڑھے ہوئے تھے ) ان کے لیڈرنے کہا۔میں ان کی باتوں پراعتبار نہیں کرسکتا۔یہ لوگ جھوٹے اور دھوکہ باز ہیں۔ان کی قسموں کاکوئی