تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 330
خدا تعالیٰ کے مخفی علم کی وجہ سے ان کو اس علم پر تسلی ہوسکتی ہے۔ہاں جب خدا تعالیٰ کاازلی علم واقعہ میں بھی ظاہر ہوجائے اورمقررہ مہینہ کے مقررہ دن وہ شخص مرجائے توپھر دنیا کے لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ واقعہ میں وہ مرگیاہے اسی کی طرف لَیَعْلَمَنَّ کے لفظ سے اشارہ کیاگیا ہے اوربتایاگیاہے کہ خدا تعالیٰ توہمیشہ سے جانتاہے کہ کون مومن ہے اورکون نہیں مگربندے نہیں جانتے اورجب تک اللہ تعالیٰ کاازلی علم وقوعہ سے نہ بدل جائے وہ شک میں رہتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ طرح طرح کے فتنوں میں ڈال کر جب کہ مومن اپنے ایمان پر قائم رہتے ہیں دنیا کویہ یقین دلادیتاہے کہ یہ سچے مومن ہیں۔اوراگرابتلاء کے موقعہ پر کوئی پھسل جائے تو خدا تعالیٰ کا ازلی علم جو اس کے جھوٹے ہونے کے متعلق تھا علم وقوعہ میں بدل کر دوسرے انسانوں کوبھی یقین دلادیتاہے کہ وہ کمزورایمان والاتھا اوراس طرح خدا تعالیٰ کے سلوک پر کسی کو اعتراض کی گنجائش نہیں رہتی۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قاعدہ کلیہ کے طور پر یہ امر بیان فرمایا ہے کہ دعویٰء ایمان اور ابتلاء وا ٓزمائش لازم و ملزوم ہیں۔یہ ممکن ہی نہیںکہ مومنوں کو صرف ان کے دعویٰٔ ایمان کی وجہ سے ہی کامل مومن سمجھ لیاجائے اورانہیں آزمائشوں اور ابتلائوں کی بھٹی میں نہ ڈالاجائے۔اس طرح نہ پہلے کبھی ہواہے اور نہ آئندہ ہوگا۔چنانچہ دیکھ لو جن لوگوں نے کسی زمانہ میں بھی سچا دین قبول کیا ان کے لئے فوراً ہی آرام اورسکھ کاراستہ نہیں کھولاگیا۔بلکہ پہلے پہل تویہی ہواکہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ بھی انہیں دینا پڑا۔اگرکچے گھروں والے تھے تو دین قبول کرنے کے بعد بجائے اس کے کہ ان کے محل بن جاتے وہ گھر بھی انہیں چھوڑنے پڑے۔اگرقوموں میں معززتھے تودین قبول کرنے کے بعد بجائے اس کے کہ بادشاہ اور حکمران بن جاتے انہیں پہلی عزتیں بھی چھوڑنی پڑیں۔اگرمالدا ر تھے تودین قبول کرنے کے بعد بجائے اس کے کہ ان کا مال دگنا ، چوگنا،بیس گنا اورہزار گناہوجاتا انہیں اپنا پہلا مال بھی ترک کرناپڑا۔اگرلوگوں سے تعلقا ت تھے تودین قبول کرنے کے بعد بجائے اس کے کہ ان کے تعلقات وسیع ہوجاتے وہ بھی کٹ گئے۔غرض جو راحت ،آرام،عز ت، دولت، طاقت اوررسوخ انہیں پہلے حاصل تھا۔وہ بھی جاتارہا۔اوربجائے فوراً سکھ ملنے کے بظاہر انہیں دکھ ملا۔یہاںتک کہ خداکے لئے انہیں اپنے وطنوں کو بھی چھوڑنا پڑا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے۔مگرانہیں لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے فلسطین جاناپڑا۔حضرت نوح علیہ السلام آئے توانہیں بھی اپنا مقام چھوڑنا پڑا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے توانہیں بھی اپنے گھر با رسے جداہوناپڑا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئے توان کو صلیب پر لٹکایاگیااس کے بعد ہمارے نزدیک تووہ صلیبی موت سے بچ کر کشمیر کی طرف چلے گئے۔اورغیر احمدیوں کے نزدیک آسمان پر چلے گئے۔پھر ان کی جماعت