تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 319

سُوْرَۃُ الْعَنْکَبُوْتِ مَکِیَّۃٌ سورۃ عنکبوت۔یہ سورۃ مکی ہے۔وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ سَبْعُوْنَ اٰیَۃً وَّسَبْعَۃُ رُکُوْعَاتٍ اوربسم اللہ سمیت اس کی ستر(۷۰) آیتیں ہیں اورسات (۷)رکوع ہیں۔وقت تنزیل حضرت ابن عباسؓ۔ابن زبیر ؓ۔حسن۔عکرمہ۔عطاء اور جابر بن زید کے نزدیک یہ تمام سورۃ مکی ہے۔یحیٰ بن سلام کے نزدیک اس کی صرف بارہ ابتدائی آیات مدنی ہیں۔باقی ساری سورۃ ان کے نزدیک بھی مکی ہے۔لیکن قتادہ اسے مدنی قراردیتے ہیں اور حضرت علیؓ کے نزدیک یہ سورۃ مکہ اور مدینہ کے درمیان نازل ہوئی تھی۔یوروپین مستشرقین میں سے نولڈکے اور وہیری دونوں اسے مکی قرا ر دیتے ہیں۔البتہ وہ اسکی ابتدائی دس آیات اورآیت ۴۵ کو مدنی قرا ردیتے ہیں۔تعلق اورترتیب سورۃ قصص کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاتھا کہ لَاتَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّاوَجْھَہٗ یعنی اے محمدؐ رسول اللہ کے ساتھیو !ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی توحید پرقائم رہو۔اوردنیا میں اس کی اشاعت کرتے رہو۔اوراس بات سے نہ ڈروکہ مشرکوں کاملک ہے وہ تم کو تکالیف پہنچائیں گے۔اللہ تعالیٰ کے سواہر چیز نے فناہوناہے۔صرف وہی چیز باقی رہے گی جس کی طر ف اللہ تعالیٰ کی توجہ ہوگی۔اس لئے مشرکوں سے ڈرنے کاکیافائدہ۔تمہیں اپنااصل تعلق اللہ تعالیٰ سے رکھناچاہیے اوراسی کی رضاء اورخوشنودی کی جستجو کرنی چاہیے۔اب سورئہ عنکبوت کو بھی اسی مضمون کے تسلسل میں جاری رکھا گیاہے اورفرماتا ہے کہ بے شک تم چاروں طرف سے مشرکوں میں گھرے ہوئے ہو اور تمہاری مثال اس وقت ایسی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے۔مگرتمہیں یاد رکھناچاہیے کہ ایمان کی شان بھی اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب دشمنوں کی مخالفت اپنے انتہاکوپہنچ چکی ہو۔اگرتم یہ سمجھو کہ تمہیں پھولوں کی سیج پر چلتے ہوئے کامیابی حاصل ہوجائے گی تویہ تمہاری غلطی ہے۔تم نے بے شک اپنی زبانوں سے اپنے ایمانوں کااظہار کردیاہے۔لیکن اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ تمہاراعمل بھی اس ایمان کی شہادت دے اور تم اپنے خون کے نقوش سے اس ہدایت کے اقرار کاایک عملی ثبوت قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے مہیاکرو اور یہ مت سمجھو کہ اس قربانی کاصرف تم سے ہی مطالبہ کیاگیا ہے بلکہ پہلے لوگوں سے بھی ایسا ہی مطالبہ کیاگیاتھا۔کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف منہ کے اقرار سے کسی قوم کو انعامات کاحقدارقرار نہیں دیتا بلکہ وہ انہیں آزمائشوں