تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 320

اور امتحانات کی بھٹی میں ڈالتاہے اور انہیں صبر آزمامصائب کے ایک ہولنا ک دور میں سے گذارتاہے تاکہ ان کے ایمانوں کاصدق یاکذب بھی لوگوں پر ظاہر ہوجائے اور لوگوں کویہ بھی پتہ لگ جائے کہ کس پایہ کاایمان اللہ تعالیٰ کے حضورمقبول ہواکرتاہے۔خلاصہ مضامین فرماتا ہے۔کیالوگ یہ سمجھتے ہیںکہ صرف منہ سے اپنے آپ کو مومن کہہ دینے سے ان کو اللہ تعالیٰ چھوڑ دے گا۔اوران کے ایمان کاامتحان لے کر ان کی حقیقت کو دنیا پر ظاہر نہیں کرے گا۔(آیت ۳) مومنوں کو یاد رکھناچاہیے کہ ان سے پہلے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا۔پس اس زمانہ کے مومنوںکو بھی اللہ تعالیٰ ممتاز کرکے چھوڑے گا۔اوردنیا پر ظاہر کردے گا کہ وہ صادق ہیں یاجھوٹے۔(آیت۴) پھر فرماتا ہے کہ کیا وہ لوگ جوبدیاں کرتے ہیں یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو سزانہیں دیں گے۔یاوہ کسی نہ کسی طرح ہماری سزاسے بچ جائیں گے۔ان کایہ خیال بالکل باطل ہے۔ہماری سزاسے بچنے کاطریق یہی ہے کہ انسان توبہ کرے اورہماری طرف رجوع کرے۔(آیت ۵) اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا وقت آخر ضرور آئے گا۔ہاں یہ یادر کھناچاہیے کہ نیکی کرنا انسان کے اپنے فائدے کے لئے ہوتاہے خدا کوکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔جونیکی کرے گاوہ اپنے فائدہ کے لئے کرے گا۔اورجو بدی کرے گا اس کانقصان اسے خود پہنچے گا۔اللہ تعالیٰ انسان کے اعمال سے بے نیاز ہے۔(آیت ۶،۷) ہاں بدی اور نیکی کی جزاء میں ایک فرق ہے۔ہم چونکہ رحیم وکریم ہیں۔اگر کوئی نیکی کرے توہم اس کی نیکیوں کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیتے ہیں۔اوراگرلوگوں سے کوئی غلطیاں ہوجائیں توہم ان پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔(آیت ۸) پھر فرماتا ہے۔ہم نے انسان کو اپنے والدین سے نیک سلوک کرنے کاحکم دیاہے۔ہاں اگر وہ توحید کے خلاف کوئی بات کریں تونہ مانے کیونکہ آخر معاملہ خدا سے پڑنا ہے ماں باپ سے نہیں پڑنا۔اس لئے جوبات خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتی ہے اس کو خدا تعالیٰ پر چھو ڑے۔اس میں ماں باپ کی بات نہ مانے۔(آیت ۹) پھربتایاکہ مومنوں کومرنے کے بعد اعلیٰ مقامات ملیں گے او ران کو ہم نیک لوگوں کی جماعت میں داخل کریں گے۔(آیت ۱۰) پھر اس سو ر ۃ کی پہلی آیت کے تسلسل میں بتایا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کی وجہ سے ان کو تکلیف دی جاتی ہے تووہ انسانوں کی تکلیفوںکو اتنا ہی بڑاسمجھتے ہیں جتناخداکے عذاب کو۔وہ خدا کی رحمت کے دروازہ تک پہنچ کر پھر لوٹ جاتے ہیں۔مومن کو ایسانہیں ہوناچاہیے بلکہ ہمت اوراستقلال کے ساتھ سچ پر قائم