تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 306
انسان کابنایاہوانہیں بلکہ عالم الغیب خدا کااتاراہواہے۔اوراس کثرت سے اس میں علم غیب بھراہواہے کہ ہرآیت سے کوئی نہ کوئی نیا نکتہ نکل آتاہے۔گویا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ اینٹ اینٹ کے نیچے فلاں چیز موجود ہے اسی طرح تم کوئی آیت اٹھائو اس کے نیچے ایک معجزہ نکل آتاہے اوراس طرح قرآن کریم سارے کاسارا معجزوں سے بھراہوادکھائی دیتاہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی طرف اس آیت میں ہی خبرنہیں دی گئی بلکہ بعض اور بھی مکی آیات میں یہ خبر واضح طور پر دے دی گئی تھی۔چنانچہ سورۃ بلد جومکی سورۃ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دیتے ہوئے فرمایاکہ لَٓا اُقْسِمُ بِھٰذَاالْبَلَدِ وَاَنْتَ حِلٌّ بِھٰذَاالْبَلَدِ(البلد:۲،۳) یعنی میں اس بات کے ثبوت میں کہ کفار اپنے دعووں میں جھوٹے ہیں مکہ شہر کو پیش کرتاہوں اوراس امر کاعلان کرتاہوں کہ اے محمد رسول اللہ تُوایک دن پھر اس شہر میں کامیاب طورپر واپس آنے والا ہے۔پھر آپ کی ہجرت اورمکہ مکرمہ میں کامیاب واپسی کی اس آیت میں بھی خبر دی گئی تھی کہ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا ( بنی اسرائیل :۹) یعنی اے میرے رب! مجھے مکہ میں داخل ہونے کابھی بابرکت موقعہ دیجئیو اورمجھے مکہ سے نکلنے کابھی بابرکت موقعہ دیجئیو۔یعنی میرامکہ میں واپس آنابھی میری کامیابی کاموجب ہواورایسانشان ہو جو ہمیشہ قائم رہنے والاہو۔اورمیرامکہ سے نکلنابھی میری کامیابی کاموجب ہو۔اورایسانشان ہوجوہمیشہ قائم رہنے والاہو اوراپنے پاس سے مجھے غلبہ عطا فرمائیو۔وہ غلبہ جو مجھے کامیاب کردے۔اور میرے دشمنوںکو مغلوب کردے۔بعض لوگ ا س آیت پر یہ اعتراض کیاکرتے ہیں کہ قرآن کریم نے داخل ہونے کاپہلے کیوں ذکرکیا ہے حالانکہ آپ نکلے پہلے اورداخل بعد میںہوئے۔کہنایہ چاہیے تھا کہ رَبِّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ مگر کہا یہ گیا ہے رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ یعنی اے رب مجھے اچھے طو رسے داخل کیجئیو اورمجھے اچھے طور سے نکالیو۔صدق کالفظ جب عربی زبان میں کسی چیز کی طرف منسوب کیاجائے تواس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ایسی چیز جو ہمیشہ یاد گار رہے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ یہ دعاسکھاتاہے کہ اے میرے رب تومیراداخلہ ایساکیجئیو جودنیا میں ہمیشہ یاد گا ررہے اورمجھے نکالیو بھی ایسی شان سے کہ قیامت تک یاد گا ررہے۔یہ سوال کہ اَدْخِلْنِیْ پہلے کیوں رکھا گیاہے اور اَخْرِجْنِیْ کو بعد میں کیوں رکھا گیاہے اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے نبیوںکوڈرایانہیں کرتا۔بلکہ امید اوریقین کاپہلو ہمیشہ ان کے سامنے روشن رکھتاہے۔اگرپہلے ہی یہ الہام ہوتاکہ رَبِّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ تومحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کادل گھبراجاتا کہ یہ کیاہونے والا ہے