تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 305
ہیں۔(کمنٹری آن دی قرآن مصنفہ وہیری جلد ۳ص ۲۵۱) اوراس طرح و ہ اپنے ہاتھوں اس بات کاثبوت بہم پہنچاتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔کیونکہ اگریہ سور ۃ مکی ہے تو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پتہ لگ گیا تھاکہ میں مکہ سے ہجرت کروں گا اور اس کے بعد میںایک فاتح کی حیثیت سے دوبار ہ اس شہر میں داخل ہوں گا۔اگر باوجود اس کے کہ آپ کو اپنے مستقبل کے متعلق کوئی علم نہیں تھا آپ یہ پیشگوئی فرماتے ہیں اورپھر وہ پوری بھی ہوجاتی ہے۔تویہ آ پ کی صداقت کی ایک واضح دلیل ہے۔پس عیسائی مستشرق اس سورۃ کو مکی کہہ کر خود پھنس گئے اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرگئے۔اگر وہ لکھ دیتے کہ یہ سور ۃ مدنی ہے توکہاجاسکتاتھا کہ مدینہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طاقت حاصل ہوگئی تھی ا س لئے اس قسم کی پیشگوئی کرناآ پ کے لئے کوئی مشکل امر نہیں تھا۔لیکن انہوںنے ا س سورۃ کو مکی قرار دیااو راس طرح اپنی تحقیق سے خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت کااظہار کردیا۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ ہمارے مفسرین کہتے ہیں کہ اس سورۃ میں بعض آیا ت مدنی بھی ہیں۔لیکن عیسائی مصنفین اسے خالص مکی سورۃ قرار دیتے ہیں۔اوراس طرح وہ اپنے ہاتھ سے اسلام کی صداقت کاثبوت مہیا کرتے ہیں۔بعض عیسائی مصنّف لکھاکرتے ہیں کہ ہمیں سورتوں کے سٹائل سے ہی پتہ لگ جاتاہے کہ اس سورۃ کی فلاں آیت مدنی ہے اورفلاں مکی۔حالانکہ اگر یہ بات درست ہے کہ انہیں قرآن کریم کے سٹائل سے ہی پتہ لگ جاتاہے کہ اس کی فلاں آیت مکی ہے اور فلاں مدنی تویہ قرآن کریم کاکتنابڑاکمال ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ کو جس میں ہجرت کی پیشگوئی تھی اس سٹائل میں اتاراجس کی وجہ سے عیسائیوں نے یہ فیصلہ کرناتھا کہ یہ سورۃ مکی ہے اوراس کی وجہ سے انہیں اپنی زبان سے اس بات کااقرار کرنا پڑا کہ مکی زندگی میں ہجرت اور فتح مکہ کے متعلق جو پیشگوئی قرآن کریم نے کی تھی وہ سچی نکلی۔ورنہ اگر یہ کسی انسان کی بنائی ہوئی کتاب ہوتی تو اسے اس بات کا کیسے علم ہوسکتاتھا کہ آج سے اتنے سالوں کے بعد وہیری، نولڈ کے اور دوسرے مستشرقین نے کسی سورۃ کے سٹائل کی وجہ سے اسے مکی یامدنی کہناہے۔اس لئے اس کا سٹائل ایسارکھو کہ اس سورۃ کے پڑھتے ہی ہرشخص یہ معلوم کرلے کہ یہ مکی ہے۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کریم کے نازل کرنے والی ہستی کو ان اعتراضا ت کاعلم تھا جو بیسویں صدی کے عیسائی مصنفین نے کرنے تھے۔لیکن ان عیسائیوں کو خود بیسویں صدی میں بھی یہ علم نہیں کہ ہم نے ان آیتوں کی کیاتفسیر کرنی ہے۔وہ ایک آیت پر اعتراض کرتے ہیں۔لیکن اس آیت کی جب ہم تفسیر کرتے ہیں توان کا اعتراض ردّ ہو جاتا ہے۔اوراس طرح قرآن کریم کی فضیلت اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دنیا پر ظاہر ہوجاتی ہے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ یہ کلام کسی