تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 295

مصیبت ہے ہروقت چندہ ہی چندہ مانگاجاتاہے۔و ہ غریب آد می جو پچیس روپے کما کرچندہ دے رہاہوتاہے وہ حیران ہوتاہے کہ یہ اڑہائی ہزار روپیہ لے کر بھی کیوں چندہ نہیں دے سکتا۔ان نقائص اورخرابیوں سے بچنے کا واحد ذریعہ یہی ہوتاہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے انعامات کی قدر کرے اور اس کے احسانوں کویاد رکھے۔لیکن جب وہ کہتاہے اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلْمٍ عِنْدِیْ۔مجھے جو کچھ ملا ہے اپنی کو شش اور علم کی وجہ سے ملا ہے۔یاجب وہ کہتاہے کہ ہم تو پہلے ہی مررہے ہیں۔ہم دین کے لئے روپیہ کہاں سے دیں۔یاکہتاہے بڑی مصیبت آگئی ہروقت چندے ہی چندے کامطالبہ کیاجارہاہے۔تواس وقت وہ خدائی برکات سے محروم ہو جاتا ہے۔خدائی برکات سے وہ اسی وقت حصہ لے سکتاہےجب اسے ایک پیسہ بھی ملتاہے تووہ اسے خدائی انعام سمجھتاہے۔یاپندرہ کی بجائے اسے بیس روپے ملتے ہیں تووہ ان پانچ روپوئوں کی زیادتی کو خدا تعالیٰ کاانعام سمجھتاہے۔پھراسے سوروپیہ ملتاہے تووہ سوکوخدا تعالیٰ کااحسان سمجھتاہے۔ہزارروپیہ ملتاہے تووہ ہزارکو خدا تعالیٰ کااحسان سمجھتاہے۔پندرہ سوروپیہ ملتاہے تووہ ان پندرہ سوکو خدا تعالیٰ کااحسان سمجھتاہے۔ایسے شخص کے واہمہ اورگمان میں بھی نہیں آسکتاکہ اگرمجھ سے دین کی خدمت کے لئے کسی چندے کامطالبہ کیا جاتا ہے تویہ ایک مصیبت ہے جو مجھ پر آگئی کیونکہ وہ جانتاہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے اسی کا ہے میرااپناکچھ نہیں۔جب تمہارے پاس کو ئی شخص امانت رکھتاہے اورپھر وہ تم سے مانگنے آجاتاہے۔توکیاتم اس امانت کی واپسی کو مصیبت سمجھتے ہو ؟اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے جوروپیہ تمہیں ملتاہے اگرتم اس کے متعلق اپنے دلوں میں یہ یقین اور ایمان پیداکرو کہ وہ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے تمہیں دیاہے توتم خداکے لئے اس روپیہ کو خرچ کرنے میں کبھی دریغ نہ کرو۔کیونکہ تم سمجھو کہ یہ میری چیز نہیں تھی بلکہ اسی کی تھی۔جیسے انسان بعض دفعہ سفر پرجاتاہے تو وہ اپنی بھینس ہمسایہ کودے جاتاہے اورکہتاہے کہ آپ دس دن اس کادودھ پئیں۔سفرسے واپس آکر میں لے لوں گا۔اب کوئی کمینہ اور ذلیل انسان ہی ہوگا جو اس کے مانگنے پر اپنے دل میں کہے کہ یہ مرکیوں نہ گیا۔بھینس میرے قبضہ میں ہی رہتی۔ورنہ جو شریف انسان ہوگا۔وہ کہے گاکہ میں آپ کابڑاممنون ہوں۔آپ کی بھینس سے میں نے بڑافائدہ اٹھایاہے۔مگردنیا میں توامانت رکھنے والے اپنی ساری امانت واپس لے لیتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنی امانت میں سے ہمیشہ ایک حصہ مانگتاہے سارانہیں مانگتا۔پس وہ توامانت دار ہی نئی قسم کا ہے۔اس کے مانگنے پر جو شخص ناراض ہوتاہے و ہ بڑاہی ذلیل او رزٹیل قسم کاانسان ہے۔اس نے رات دن خدا تعالیٰ کی نعمتوںسے فائدہ اٹھایا۔پھر کسی موقعہ پر اگر اس نے ایک آدھ چیز مانگ لی تواس نے شور مچاناشروع کردیا کہ مجھ پر ظلم کیاجارہاہے۔حقیقتاً یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی ناقدر ی اورناشکری سے پیداہوتی ہیں اس لئے خدا تعالیٰ