تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 294

کہ ان سے وادی بھرجاتی۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آدمی اس کے پاس بھجوایا اورکہاکہ اس سے زکوٰۃ لائو۔جب اس نے زکوٰۃ مانگی تو کہنے لگا کہ کیامصیبت ہے جانوروں کوکھلانے کے لئے ہمارے پاس رقم نہیں ہوتی اوران کو ہروقت چندوں کی سوجھتی رہتی ہے۔انہیں ہمارے بوجھوںکاکوئی فکر ہی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ بات پہنچی۔توآپؐ نے فرمایا۔اسے چھوڑ دو۔ہم اس سے زکوٰۃ نہیں لیں گے۔بعد میں اسے کسی نے کہا کہ کمبخت تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعاکرواکرواکےامیربناتھا اوراب تونے زکوٰۃ دینے سے ہی انکار کردیا۔اس پراسے ندامت پیداہوئی اوروہ زکوٰۃ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم سے زکوٰۃ نہیں لی جائے گی۔اس پر وہ روتاہواواپس چلاگیا۔دوسرے سال پھر وہ زکوٰۃ کامال لے کر آیا مگررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمایا۔غرض اسی طرح ہرسال وہ زکوٰۃ کامال لاتااور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ردّ فرما دیتے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس مالِ زکوٰۃ لایامگرحضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس شخص کامال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا میں بھی اس کامال قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔چونکہ اس کے دل میں نیکی تھی اس لئے و ہ ہرسال باقاعدگی کے ساتھ زکوٰۃ لاتامگراس کی زکوٰۃ قبول نہ کی جاتی۔اسی طرح بعض لوگ امتحان دے رہے ہوتے ہیں تولکھتے ہیں کہ دعاکریں ہم امتحان میں کامیاب ہوجائیں۔اور کسی اعلیٰ عہدہ پر لگ جائیں۔جب امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں اورعہد ہ مل جاتاہے توپھر لگتے ہیں احمدیوں سے بھاگنے۔کبھی کہتے ہیں کہ احمدیوں کی سوسائٹی ادنیٰ ہوتی ہے۔کبھی کہتے ہیں احمدی مالدار نہیں ہوتے۔کبھی کہتے ہیں احمدیوں کے گھر صاف نہیں ہوتے۔وہ بھول جاتے ہیں اس بات کو کہ پہلے ہم سے دعائیں کروایاکرتے تھے اورپھروہ ہمیں سے بھاگتے ہیں۔یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ایسے آدمیوں کے دلوں میں ایمان نہیں ہوتا۔اگرایمان ہوتاتووہ دین کی خدمت کرتے۔دینداروں کی خدمت کرتے۔جماعت کی خدمت کرتے اورتکبر میں مبتلانہ ہوتے۔میں نے دیکھا ہے غریبوں میں تواضع اورانکسا رزیادہ پایا جاتا ہے۔اسی لئے انبیاء کی جماعتوں میں عموماً غریب ہی شامل ہوتے ہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ خداانہیں غریب رکھناچاہتاہے۔بلکہ خداان غریبوں کو اس لئے دین کی خدمت کاموقعہ دیتاہے کہ ان میں حرص نہیں ہوتی۔اورشکرکامادہ ان میں زیادہ ہوتاہے۔بے شک وہ لوگ بھی پائے جاتے ہیں جوامراء ہیں اور مخلص ہیں۔اوروہ لوگ بھی پائے جاتے ہیں جن پر دبائو ڈالاجائے تومان جاتے ہیں۔لیکن وہ لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو چندوں سے کھسکتے رہتے ہیں۔اورپھرجہاں بیٹھیں گے کہیں گے کہ بڑی