تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 280
چڑھاسکتاہے۔تمہارے سارے معبود مل کربھی رات کی تاریکی کو دن کی روشنی میں تبدیل نہیں کرسکتے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مباحثہ میں یہ کہا کہ فَاِنَّ اللّٰہَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِھَامِنَ الْمَغْرِبِ (البقرۃ: ۲۵۹) اللہ تعالیٰ توسورج کو مشرق کی طرف سے لاتاہے تُواسے مغرب کی طرف سے لے آ۔تو فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرَ وہ کافر جوآپ سے بحث کررہاتھا مبہوت ہوکررہ گیا اوراس سے کوئی جواب بن نہ پڑا۔کیونکہ کوئی مشرک نہیں ہے جو یہ مانتاہوکہ سورج کواس کامعبود چڑھاتاہے۔اگروہ کہتاکہ تیراخداسورج کو مشرق سے نہیں چڑھاتا بلکہ میں چڑھاتاہوں توخود اس کی قوم جوستارہ پرست تھی اس کی مخالف ہوجاتی اورکہتی کہ کیاتُواپنے آپ کو سورج دیوتاسے بھی بڑاقرار دیتاہے جوایسادعویٰ کررہاہے۔پس اس کے لئے سوائے خاموشی کے اَورکوئی چارہ نہ رہا۔قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى تُو کہہ دے۔مجھے بتائوتوسہی کہ اگر اللہ(تعالیٰ ) دن کو قیامت کے دن تک تمہارے لئے لمبا يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ کردے تواللہ(تعالیٰ ) کے سواکونسامعبود ہے جوتمہارے پاس رات کولے آئے۔فِيْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۰۰۷۳ جس میں تم سکون پاؤ۔کیاتم دیکھتے نہیں۔تفسیر۔پھر فرمایاکہ اگرخدا تعالیٰ قیامت تک کے لئے دن کو لمباکردے تو اللہ تعالیٰ کے سوااَورکون ہے جو تمہارے لئے رات کا وقت لائے گا جس میں تم آرام حاصل کرسکو۔یہ دلیل بھی مشرکین پر اتمام حجت کرنے والی ہے۔مشرک لوگ سورج کے ڈوبنے کوبھی کسی بت یاکسی معبود باطلہ کی طرف منسوب نہیں کرتے۔ان آیات میں رات کے لئے اَفَلَاتَسْمَعُوْنَ اوردن کے لئے اَفَلَاتُبْصِرُوْنَ کے الفاظ اس حکمت کے ماتحت رکھے گئے ہیں کہ رات کو انسان زیادہ ترآنکھوں کی بجائے کانوں سے کام لیتا ہے اوردن کوکانوں کی بجائے آنکھوں سے کام لیتا ہے۔