تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 281

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ اوریہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اوردن بنائے ہیں کہ اس (یعنی رات)میں تم سکون وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۰۰۷۴ حاصل کرو اوراس (یعنی دن)میں تم اس کافضل تلاش کرو۔تاکہ تم شکر گذا ربنو۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاکہ اللہ تعالیٰ نے بڑے رحم سے کام لیتے ہوئے تمہارے لئے رات اور دن بنائے ہیں تاکہ رات کو سوکر تم آرام اورسکون حاصل کرو اور دن میں دولت کما کر اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرو۔اورپھر یہ رات اور دن کاسلسلہ اس لئے بھی جار ی کیاگیا کہ تم ہمیشہ خدا تعالیٰ کاشکر اداکرتے رہو۔رات کے آنے پر بھی تمہارے اندر جذبہء شکر گذاری پیداہواوردن کے آنے پر بھی تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کے شکر سے تر ہو۔پھرجس طرح مادی عالم میں اللہ تعالیٰ نے رات اوردن کاسلسلہ جاری کیاہواہے۔اسی طرح روحانی عالم میں بھی ایک وقت انسان پر ایساآتاہے کہ جب اس پر قبض کی کیفیت طاری ہوتی ہے اورایک وقت ایساآتاہے کہ جب اس پر بسط کی حالت ہوتی ہے اوریہ قبض اوربسط کاسلسلہ بھی رات اوردن کے سلسلہ کی طرح انسانی ترقی کے لئے ایک ضروری چیز ہے۔اگر روحانی واردات میں بھی اتار چڑھائو کاسلسلہ جاری نہ ہوتواس کی ترقی رک جائے اوروہ اپنے پہلے مقام کوبھی کھو بیٹھے۔حدیثو ںمیں آتاہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک صحابیؓ آئے اورکہنے لگے۔یارسو ل اللہ! میں تومنافق ہوں۔آپ ؐ نے فرمایا۔تمہیں کس طرح پتہ لگاکہ تم منافق ہو۔انہوں نے کہا یارسول اللہ! جب میں آپ کی مجلس میں بیٹھتاہوں تومجھے یو ں معلوم ہوتاہے کہ میرے ایک طرف جنت ہے اوردوسری طرف دوزخ۔لیکن جب میں آپؐ کی مجلس سے واپس چلاجاتاہوں تویہ کیفیت نہیں رہتی۔آپؐ نے فرمایا۔اگرتم پر ہروقت ایک ہی حالت رہے تو تم زندہ ہی نہ رہو۔غرض جس طرح رات کو اللہ تعالیٰ نے سکون کے لئے اور دن کو سامانِ معیشت کی فراہمی کے لئے بنایاہے اورداناانسان وہی ہوتاہے جورات سے بھی فائدہ اٹھائے اور دن سے بھی۔رات کو سوکر اپنے اندر نئی طاقتیں پیداکرے۔اوردن کو کام کرکے پہلے سے بھی زیادہ ترقی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قبض اوربسط کاسلسلہ انسان کی روحانی ترقی کے لئے جاری کیا ہے تاکہ ہر حالتِ قبض کے بعد وہ پہلے سے بھی زیادہ آسمان روحانی کی طرف پرواز کرے اور اللہ تعالیٰ کے احسانات کی