تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 271

وہ مومن ہے تووہ خدا تعالیٰ کے وعدے کو حاضر سے کم نہیں سمجھے گا۔اور چونکہ اس کاحاضر مادی ہے اور اس کاموعود روحانی ہے ا س لئے اس کے ایمان کی علامت یہی ہوسکتی ہے کہ یہ اس موعود کو بڑاسمجھے او راس کے حاضر کو حقیر سمجھے۔وَعَدْنٰہُ کے ساتھ وَعْدًاحَسَنًا کے الفاظ اس لئے بڑھائے گئے ہیں کہ عربی زبان میں وعدہ کالفظ بعض دفعہ عذاب کے لئے بھی استعمال ہو جاتا ہے جیسے سورئہ اعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَنَادٰٓی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَاوَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَھَلْ وَجَدْتُمْ مَاوَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا۔قَالُوانَعَمْ۔فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْنَھُمْ اَنْ لَّعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ۔(الاعراف : ۴۵) یعنی جنتی لوگ دوزخیوں سے کہیں گے کہ ہم سے ہمارے رب نے جووعدہ کیاتھا اس کو توہم نے سچاپالیا۔کیا تم نے بھی اس وعدہ کو جو تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیاتھا سچاپالیاہے؟ اس پردوزخی کہیں گے ہاں ہاں!پس ایک پکارنے والا ان کے درمیان زورسے پکارے گاکہ ان ظالموں پر خدا کی لعنت ہو۔پس چونکہ صرف و عدہ کالفظ بعض دفعہ وعید کے لئے بھی استعمال ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے وَعَدْنٰہُ کے ساتھ وَعْدًاحَسَنًا کے الفاظ بھی بڑھادیئے یہ بتانے کے لئے کہ اس جگہ وہ وعدہ مراد ہے جومومنوں کی اخروی ترقی اوران کے روحانی انعامات کے ساتھ تعلق رکھتاہے۔ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ میں بتایاکہ اچھی بات تووہی ہے جس کاانجام اچھاہو۔لیکن جس کو دنیا میں مال و متاع مل گیا اورقیامت کے دن وہ جواب طلبی کے لئے بلایاگیاتووہ اس شخص کے برابر کس طرح ہو سکتا ہے جس سے نیک سلوک کاوعدہ کیاگیاہے۔قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ وہ بسا اوقات بڑے وسیع مطالب صرف صیغوں کے ذریعہ ہی اداکردیتاہے اس جگہ بھی مُحْضَریْنَ میں مجہول کاصیغہ استعمال کرکے اس طرف اشار ہ کیاگیاہے کہ وہ خود توحاضر ہونانہیں چاہیں گے لیکن جس طرح مجرموں کو ہتھکڑی لگاکر عدالت میں لایاجاتاہے۔اس طرح انہیں بھی کشاں کشاں لایاجائے گا۔اورانہیں اللہ تعالیٰ کافیصلہ سنایاجائے گا۔