تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 272

وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ اور(یاد کرو) جس د ن وہ (یعنی اللہ تعالیٰ ) ان کو بلائے گا پھر پوچھے گا کہ میرے مزعومہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم میرے تَزْعُمُوْنَ۰۰۶۳قَالَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰؤُلَآءِ مقابل پر معبود قرار دیتے تھے۔(تب )جن پر ہمارے عذاب کی خبر پوری ہوچکی ہوگی کہیں گے۔اے ہمارے الَّذِيْنَ اَغْوَيْنَا١ۚ اَغْوَيْنٰهُمْ كَمَا غَوَيْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَيْكَ١ٞ رب! یہ وہ لوگ ہیں جنکو ہم نے بہکایاتھا۔ہم نے ان کو اسی طرح بہکایاتھا جس طرح ہم خود بہک گئے تھے۔آج ہم مَا كَانُوْۤا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ۰۰۶۴وَ قِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ تیرے پاس اپنی گمراہی سے برأت ظاہر کرتے ہیںوہ لوگ ہمارے عبادت گذار نہیں تھے (بلکہ اپنے خیالوں کے فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ پیچھے چلتے تھے)اور(جب یہ سب کچھ ہوجائے گا توپھر ان سے ) کہا جائے گا کہ (اب تو تمہیں مہلت مل چکی ہے شاید اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ۰۰۶۵ اب تم کو اپنے مزعومہ معبودوں کو بلانے کی طاقت ہوگئی ہو اگر ٹھیک ہے تواب)اپنے جھوٹے معبودوں کو بلاکر دیکھ لو۔اس پر وہ (لوگ )پھر ان (یعنی جھوٹے معبودوں)کو بلائیں گے۔لیکن وہ ان کے بلانے کے نتیجہ میں آئیں گے نہیں۔اور(سارے کے سارے مل کر)خدائی عذاب کواپنی آنکھوں کے سامنے کھڑادیکھ لیں گے۔کاش کہ وہ (اس کو دیکھ کر ہی)ہدایت پاجاتے (مگرافسوس کہ ایسا بھی نہ ہوا)۔تفسیر۔ا س آیت میں ان شرک کرنے والے لوگوںکا ذکرکیاگیاہے جودنیا میں بڑے سمجھے جاتے تھے۔اورفرماتا ہے کہ اس دن کو بھی یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کوبلائے گااورکہے گا اَیْنَ شُرَکَآءِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۔وہ میرے شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے۔یعنی وہ شریک تھے تونہیں لیکن تم ان کو شریک قرار دیتے تھے۔