تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 270
وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتُهَا١ۚ وَ اورجوکچھ تمہیں دیاجاتاہے وہ توصرف ورلی زندگی کاسامان ہے اوراس کی زینت ہے۔اورجواللہ کے پاس ہے مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَؒ۰۰۶۱ و ہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔کیا تم عقل نہیں کرتے۔تفسیر۔فرماتا ہے لوگ بعض دفعہ اپنی نادانی سے دنیوی سامانوں کو ہی اپنی ترقی اورکامیابی کامعیار سمجھ لیتے ہیں اوروہ اسی پر اتراتے پھرتے ہیں کہ ان کے پاس بڑامال ہے یاانہیں بڑی عز ت یارسوخ حاصل ہے۔حالانکہ وہ سامان بہت تھوڑے عرصہ کے لئے ان کے آرام کاموجب ہوتاہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے مطابق جوقوم کوترقی ملتی ہے وہ تھوڑی سی تجارت یا تھوڑ ے سے سونے چاندی کانام نہیں ہوتابلکہ وہ اس سے بہت بہتر چیز ہے اورباقی رہنے والی ہے یعنی اقتدار اورغلبہ۔اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ کیاتم عقل نہیں رکھتے کہ اس بات کو سمجھ سکو اورانفرادی ترقی کی بجائے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاکر قومی ترقی کے حصول کی کوشش کرو۔اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا (یعنی اخروی زندگی کی کامیابی کا)وعدہ کیاہو اوروہ اسے (یقیناً)پالینے والاہو اس مَتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مِنَ شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کو ہم نے صرف دنیوی زندگی کاکچھ سامان دیاہو۔پھر وہ قیامت کے دن (خداکے الْمُحْضَرِيْنَ۰۰۶۲ روبرو جواب دہی کے لئے) پیش کیاجانے والاہو۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاکہ جس شخص کواللہ تعالیٰ دنیوی دولت دیتاہے۔و ہ باوجود دنیا کی دولت پر قابض ہونے کے اس شخص کے برابر نہیں ہوسکتا جس سے اللہ تعالیٰ آئند ہ روحانی برکات کاوعدہ کرتاہے۔کیو نکہ اگر