تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 263
تھا۔کسی نے اسے کہا۔کہ تم یہ کیا کررہے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ یہ تینوں چیزیں مجھے خدا تعالیٰ نے دی ہوئی ہیں۔اگر میںصر ف زبان سے قرآن کریم پڑھوں گا تو خدا تعالیٰ کہے گا ہاتھوںاورآنکھوں سے کیوں کام نہ لیا۔اگر میں زبان او ر ہاتھوںکواستعمال کروں گا۔تواللہ تعالیٰ کہے گاآنکھوں کو کیوں نہ استعمال کیا۔اوراگرصرف آنکھوں سے قرآن کریم پڑھوں گا اورزبان اور ہاتھ نہ ہلائوں گا تو خدا تعالیٰ کہے گاان سے کیوں نہ کام لیا۔اس لئے میں ان تینوں اعضاء کو ایک ہی وقت میں استعمال کرلیتاہوں۔غرض اللہ تعالیٰ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کی یہ خوبی بیان فرماتا ہے کہ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کی اتنی گہری محبت ہے کہ انہیں جوکچھ بھی ملے اس کاایک حصہ وہ دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے ضرور صرف کرتے ہیں۔و ہ صرف روپیہ دے کر یہ نہیں سمجھ لیتے کہ انہوں نے خدمت کا حق اداکردیا ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی عطاکردہ ہرچیز میں دوسروںکو شریک کرتے ہیں اوراس طرح ان کے معیار زندگی کو بلند کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔میں نے اپنی تائی صاحبہ مرحومہ کودیکھا ہے کہ باوجو د اس کے کہ ان کی اسّی پچاسی سال کی عمر ہوگئی تھی۔پھر بھی وہ ساراسال روئی کاتتیں۔پھر اٹّیاں بناتیں پھر جولاہوں کو دے کر اس کا کپڑابنواتیں اورپھر رضائیاں اورتوشکیں بنواکر غریبوں میں تقسیم کرتیں۔اوراس میںسے بہت ساکام وہ خود اپنے ہاتھ سے کرتیں۔اورجب کہاجاتاکہ دوسروں سے کروالیاکریں تو کہتیں اس طرح مزانہیں آتا۔تواللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہرچیز کو خدا کی راہ میں خرچ کرناضروری ہوتاہے۔وہ لوگ جوکسی غریب کو چند پیسے دے کر سمجھ لیتے ہیں کہ اس پر عمل ہوگیا وہ غلطی کرتے ہیں۔جو شخص پیسے توخرچ کرتاہے مگرزبان سے تبلیغ نہیں کرتا وہ نہیں کہہ سکتاکہ اس نے اس حکم پر پوری طرح عمل کرلیاہے یاجوتبلیغ بھی کرتاہے مگر بیوائوں او ریتیموں کی خدمت نہیں کرتا وہ بھی نہیں کہہ سکتاکہ اس نے اس حکم پر پوری طرح عمل کرلیا ہے۔اسی طرح اپنے جذبات کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرناضروری ہوتاہے۔مثلاً کسی پر غصہ چڑھا تو معاف کردیا۔اس حکم میں خدمت خلق سے تعلق رکھنے والے مختلف قسم کے کام بھی شامل ہیں جن کی طرف ہماری جماعت کے نوجوانوں کو خصوصیت سے توجہ کرنی چاہیے اورمذہب و ملت کے امتیاز کے بغیر تمام بنی نوع انسان کی احمدی معیار کے مطابق خدمت کرنی چاہیے تاکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل ہو۔تیسری خوبی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی کہ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ٞ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ١ٞ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ۔جب و ہ خدائے واحد کاانکار کرنے والوں سے کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تواس سے اعراض کرلیتے ہیں اوران سے کہتے ہیں کہ تم ہماری دشمنی کیوں کرتے ہو۔ہمارے اعمال کابدلہ ہم کو