تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 262

کرتے ہیں۔اوراس طرح لوگوںکو جرأت دلاتے ہیں کہ بدیوں سے بچناکوئی مشکل کام نہیں اگر ہم نے بدیوں کوترک کردیا توتمہارے لئے ان پر غالب آنا کون سا مشکل امر ہے۔دوم وہ نیکی پھیلانے کے لئے متواتر وعظ و نصیحت سے کام لیتے ہیں۔تاکہ برائیوں کا لوگوں کے ذہنوں سے خودبخود استیصال ہوتاچلاجائے۔اوربرائیوں کی شناعت ان کے دلوں میں پیداہوجائے۔سوم۔وہ بدی کومٹانے کے لئے ایسارویہ اختیا رکرتے ہیں جو نیک نتائج پیداکرنے والاہوتاہے۔یعنی اگر عفو میں اصلاح دیکھیں تو دوسرے کو معاف کردیتے ہیں۔اوراگر مجر م کی اصلاح سزاکے بغیر نہ ہوسکتی ہو تو اسے سزادیتے ہیں۔تورات کی طرح نہ ہرموقعہ پر انتقام لینے کی کو شش کرتے ہیں اورنہ انجیل کی طرح ہرجرم کو معاف کرنے کی کو شش کرتے ہیں بلکہ وہ موقع اورمحل کو دیکھ کر بدی کو اس طریق سے دور کرتے ہیں جواچھے نتائج پیداکرنے والاہو۔چہارم۔وہ ظلم کے مقابلہ میں ظلم اوربے انصافی کے مقابلہ میں بے انصافی اور شرار ت کے مقابلہ میں شرار ت سے کام نہیں لیتے بلکہ ہمیشہ سچائی اور انصاف اور خداترسی کو مدنظررکھتے ہیں۔اوربدی کے مقابلہ میں بھی نیکی ہی اختیار کرتے ہیں۔دوسری خوبی یہ بتائی کہ وَمِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔ہم نے ان کو جوکچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ نے انہیں جوبھی نعمت عطافرمائی ہے وہ اسے بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے صرف کرتے ہیں۔وہ غرباء کے لئے صرف اپنا روپیہ ہی صرف نہیں کرتے بلکہ ہم نے ان کو جو کچھ بھی دیاہے اس کا ایک حصہ وہ دوسروں کے لئے ہمیشہ خرچ کرتے ہیں۔عربی زبان میں رِزْق اللہ تعالیٰ ہرعطاکردہ چیز کو کہاجاتاہے۔چنانچہ مال بھی رزق میں شامل ہے۔علم بھی رزق میں شامل ہے۔طاقت بھی رزق میں شامل ہے۔رزق بمعنیٰ اناج بھی رزق میں شامل ہے۔وقت بھی رزق میں شامل ہے۔غرض ہروہ چیز جس سے انسا ن کو کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ پہنچتاہووہ رزق ہے۔پس مِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ فرماکر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو جو کچھ بھی دے۔اسے لوگوں کے فائدہ کے لئے خرچ کرناچاہیے۔اگر کوئی شخص ہنرتوجانتاہے لیکن سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ہنرسے فائدہ نہیں اٹھاسکتا توتم اس کی سرمایہ سے مدد کرو۔جس کے پاس کھانے کو نہیں ہے اس کو تم کھانے کے لئے دو۔جس کے پاس پینے کو نہیں ہےاسےپینے کے لئے دو۔جس کے پاس پہننے کو نہیں ہے اسے پہننے کے لئے مہیا کرو۔اسی کے مطابق ایک لطیفہ حضرت خلیفہ او ل رضی اللہ عنہ بیان فرمایاکرتے تھے۔کہ ایک بزرگ قرآن کریم پڑھتا جارہا تھا۔وہ منہ سے بھی پڑھتاتھا۔آنکھوں سے بھی الفاظ کو دیکھتاتھا اورانگلی بھی الفاظ کے ساتھ ساتھ قرآن کریم پر پھیرتا جاتا