تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 261

کے ہیں (اقرب) پس یَدْرَءُ وْنَ کے معنے ہوں گے وہ سختی سے ہٹاتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔و ہ لوگ جن کو قرآن کریم سے پہلے صرف نام کے طورپر کتاب نہیں ملی بلکہ حقیقی طورپر ملی ہے اوراس پر سچاایمان رکھتے ہیں وہ قرآن کریم کی سچائی پر بھی صدق دل سے ایمان لاتے ہیں۔کیونکہ خود ان کی کتاب میں قرآن کریم کے متعلق پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں چنانچہ جب ان کے سامنے قرآن کریم پڑھاجاتاہے تووہ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ ہم توا س قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔یہ یقیناً ہمارے رب کی طرف سے ایک سچی کتاب ہے اور ہم اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے فرماں بردار رہے ہیں اور اب بھی اس کے فرمانبردار ہیں۔اُولٰٓىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا فرماتا ہے۔اہل کتاب میں سے جولوگ یہ نمونہ دکھائیں گے اور اس کی وجہ سے اپنی قوم سے مختلف قسم کی تکلیفیں پائیں گے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوہرااجر دیاجائے گا۔یعنی ایک تواس بات کااجر کہ وہ تورات پر قائم رہے اور دوسرے اس بات کااجر کہ انہوں نے قرآن کریم کو مان لیایاایک تووہ اجرجودنیا میں ان کو دیاجائے گا اوردوسراوہ اجر جواگلے جہان میں دیاجائے گا۔صَبَرُوْا میں بتایاکہ ان کو یہ دوہرااجر ان کے صبر کی وجہ سے دیاجائے گا۔صبر کے عربی زبان میں تین معنے ہوتے ہیں۔اول۔گناہ سے بچنا۔دوم۔نیک اعمال پر استقلال سےقائم رہنا۔سوم۔تکالیف پر شکوہ اورجزع فزع کے اظہار سے اجتناب کرنا۔پس صَبَرُوْا کہہ کر بتایاکہ یہ لوگ اس لئے دوہرے اجر کے مستحق ہیں کہ یہ ہمیشہ گناہوں سے بچتے رہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان کو یہ توفیق عطافرمائی کہ انہوں نے اس کے مامور کی آواز پر لبیک کہہ دیا۔دوسرے یہ لوگ اس لئے دوہرے اجر کے مستحق ہیں کہ یہ نیک اعمال پر استقلال سے قائم رہے۔اورخدا تعالیٰ کو ان کی یہ نیکی ایسی پسند آئی کہ اس نے انہیں اس دوسری نیکی کی بھی توفیق عطافرمائی کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرلیا۔تیسر ے یہ لوگ اس لئے دوہرے اجر کے مستحق ہیں کہ انہوں نے تورات کو مان کر بھی دشمنوں سے تکلیفیں سہیں۔اوراب قرآن کریم کومان کر بھی اپنی قو م کی لعن طعن کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔مگران تمام تکالیف کے باوجود ان کی زبانوں پر کبھی حرف شکایت نہیں آیا۔بلکہ ہمیشہ یہ اپنے رب کی رضا ء پر راضی رہے۔پس یہ نیکیاں ایسی نہیں جوضائع ہوسکیں۔اللہ تعالیٰ ان کو ان کے نیک اعمال کااس جہان میں بھی بدلہ دے گا اور آخر ت میں بھی انہیں اپنی رضاکا مقام عطافرمائے گا۔پھر بتایا کہ اہل کتاب میں بعض اورخوبیاں بھی ہیں چنانچہ ایک خوبی تویہ ہے کہ وَ يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وہ بدی کونیک سلوک کے ساتھ دو رکرتے ہیں یعنی اول بدی کومٹانے کے لئے وہ اپنانیک نمونہ لوگوں کے سامنے پیش