تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 260

معلوم کرلیتا ہے۔اسی طرح جوشخص اس نیت سے قرآن پڑھتاہے کہ یہ غیرمحدود خزانہ ہے اوراس کی ترتیب نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے وہ اس سے فائدہ اٹھالیتا ہے۔مگرجواس نیت سے نہیں پڑھتا وہ فائدہ اٹھانے سے محروم رہتاہے۔اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ۰۰۵۳ وہ لوگ جن کو ہم نے اس (قرآن) سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس (قرآن) پر(دل میں )ایمان رکھتے ہیں۔وَ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا اورجب وہ (یعنی قرآن) ان کے سامنے پڑھاجاتاہے تووہ کہتے ہیں ہم اس پرایمان لاتے ہیں۔یہ كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ۰۰۵۴اُولٰٓىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ ہمارے رب کی طر ف سے برحق کلام ہے ہم توآج سے پہلے ہی اس (کتاب کے مضامین)کے متبع تھے مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَ مِمَّا (گوخفیہ)۔ان لوگوں کو ان کا بدلہ ان کے صبر کی وجہ سے دودفعہ ملے گا اور وہ نیکی سے بدی کامقابلہ کرتے ہیں اور رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ۰۰۵۵وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ جوکچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس کو خرچ کرتے ہیں۔اور(یہودیوں سے جب مسلمان) کوئی لغوبات سنتے ہیں تواس قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ٞ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ١ٞ لَا سے اعراض کرتے ہیں۔اورکہتے ہیں (اے کافرو!) ہمارے عمل ہمارے لئے ہیں اور تمہارے عمل تمہارے لئے نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ۰۰۵۶ ہیں۔تم پر سلامتی نازل ہو(یعنی خداتمہیں ایمان نصیب کرے )ہم جاہلوں سے تعلق رکھنا پسند نہیں کرتے۔حلّ لُغَات۔یَدْرَءُ وْنَ: یَدْرَءُوْنَ دَرَأَ سے فعل مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اوردَرَأَ ہٗ (دَرْأً وَدَرْأَۃً) کے معنے ہیں دَفَعَہٗ۔اس کوہٹایا۔وَقِیْلَ دَفَعَہٗ شَدیْدًا اوریہ بھی کہاگیا ہے کہ اس کے معنے زورسے ہٹانے