تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 254

گویہ کتاب اکٹھی اتری ہے مگرپھر بھی ہم انکار کرتے ہیں۔پس اگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پربھی اکٹھا قرآن اترتاتوتم نے کب مان لیناتھا تم پھر بھی اعتراض کرتے چلے جاتے۔سِحْرٰنِ تَظَاھَرَا میں موسیٰ ؑ اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔یعنی جب ان کے تمام اعتراضات کوواضح طورپر ردّکردیاجاتاہے اوران کا بوداپن کھل جاتاہے تووہ جھنجھلاکر کہہ اٹھتے ہیں کہ ہم موسیٰ ؑ کوبھی نہیں مانتے موسیٰ ؑ بھی نعوذ باللہ جھوٹاتھا اور تم بھی نعوذ باللہ جھوٹے ہو۔تم بار بار موسیٰ ؑ کو اپنی تائید میں پیش کرتے ہو اورموسیٰ ؑ اپنی کتاب میں تمہارے متعلق پیشگوئیاں کرتاہے۔پس درحقیقت تم دونوں ہی جھوٹے ہو جو ایک دوسرے کی تائید کررہے ہو۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان ایک سچائی کا انکار کرتاہے تواسے دوسری سچائی کابھی لازماً انکار کرناپڑتا ہے۔جب انہوں نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاانکار کیاتوچونکہ موسیٰ ؑ کے کلام میں آپؐ کے متعلق پیشگوئیاں پائی جاتی تھیں اس لئے انہیں موسیٰ ؑ کابھی انکار کرناپڑا اورانہوں نے کہہ دیا کہ یہ سب جھوٹ اورفریب کاایک چکر ہے جو چلایا جارہاہے۔اس میں ہمیں کوئی سچائی نظر نہیں آتی۔قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ تُو کہہ دے کہ (اگرموسیٰ ؑ اورہارونؑ اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کی باتیں جھوٹی ہیں تو )اگر تم سچے ہوتو اللہ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۵۰ کے پاس سے ایک ایسی کتاب لائو جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت دیتی ہو تاکہ میں اس کی اتباع کروں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اے محمدرسول اللہ تم اپنے دشمنوں کو کہوکہ تورات کا تواس لئے انکار ہواکہ وہ اکٹھی نازل ہوئی تھی اور قرآن کاانکار اس لئے ہواکہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکرنازل ہواہے تواب تم کو ئی ایسی کتاب لائو جس نے دنیا میں ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پھیلائی ہواور کسی تیسرے طریق پر نازل ہوئی ہو۔مگرتم کبھی ایسانہیں کرسکوگے کیونکہ تم جھوٹے ہو۔باقی رہا مَیں۔سومَیں توہرصداقت کو ماننے کے لئے تیار ہو ں۔تم کوئی صداقت میر ے سامنے لائو پھر دیکھو کہ میں اسے مانتاہوں یا نہیں مانتا۔