تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 253

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِيَ مِثْلَ پس جب (ان کے پاس ) ہماری طرف سے حق آگیا۔توانہوں نے کہا کیوںاس (یعنی محمد رسول اللہ )کوویسی تعلیم مَاۤ اُوْتِيَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ يَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِيَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ نہیں ملی جیسی کہ موسیٰ ؑ کوملی تھی۔کیاانہوںنے موسیؑ کی تعلیم کا اس سے پہلے انکار نہیں کیاتھا؟ انہوں نے توکہہ دیاتھا کہ یہ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظَاهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ۰۰۴۹ دوبڑے جادو گر ہیں جوایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔اورکہہ دیاتھا کہ ہم ان میںسے ہرایک کے دعویٰ کے منکر ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے پر بجائے اس کے کہ آپؐ کی قوم آپؐ کی پاک تعلیم سے فائدہ اٹھاتی اورآپؐ پر ایما ن لاکر اللہ تعالیٰ کے انعامات کی وارث بنتی اس نے ایک نیا اعتراض کردیا اوریہ کہنا شروع کردیا کہ موسیٰ ؑ کی طرح کی کوئی کتاب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرکیوں نہیں اتاری گئی۔یعنی جس طرح موسیٰ ؑ پر اکٹھی کتاب اتری تھی اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں نہیں اتری۔جیسا کہ دوسری جگہ قرآن کریم نے اس اعتراض کو تفصیل سے بیان کیا ہے اوربتایاہے کہ کفار یہ اعتراض کرتے ہیں کہ لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً (الفرقان : ۳۳) اس پر قرآن ایک دفعہ ہی کیوں نازل نہیں کردیاگیا۔ٹکڑے ٹکڑے کرکے کیوں اتاراگیاہے حالانکہ ان کی یہ بات بالکل غلط تھی کہ موسیٰ پراکٹھی کتاب اتری ہے۔جتنے عرصہ میں قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُتراہے اس سے بہت زیادہ عرصہ میں تورات موسیٰ ؑ پر اُتری ہے۔چنانچہ بائیبل کے بیان کے مطابق شروع میںتوصرف دس احکام موسیٰ پرنازل ہوئے لیکن باقی تورات کئی سالوں میں مکمل ہوئی۔اوردشتِ سینا کے مختلف مقامات میں اس کی متعددآیات اتریں۔پس یہ اعتراض تو غلط ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری یہ بات درست بھی مان لی جائے کہ اکٹھی کتاب نازل ہوتی توتم مان لیتے توسوال یہ ہے کہ موسیٰ ؑ کو ان کے مخاطبوں نے کب مان لیاتھا ؟اس پر تو تمہارے نزدیک اکٹھی کتاب اتری تھی۔مگراس کے زمانہ کے لوگوں نے بھی یہی کہا تھا کہ سِحْرٰنِ تَظَاھَرَا ہارونؑ اورموسیٰ ؑ دوبڑے جادوگر ہیں جوایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں اورکہہ دیاتھاکہ اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ ہم موسیٰ ؑ کے بھی منکر ہیں۔اورہارون ؑ کے بھی۔یعنی