تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 255

فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا يَتَّبِعُوْنَ پھر اگر وہ کوئی جواب نہ دیں۔توجان لے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں۔اوراس سے اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى زیادہ کون گمراہ ہے جواللہ کی ہدایت کو نظرانداز کرکے اپنی خواہش کے پیچھے چلتاہے۔اللہ(تعالیٰ) مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَؒ۰۰۵۱ یقیناً ظالم قوم کو کامیابی کاراستہ نہیں دکھاتا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔اگروہ تیرے اس مطالبہ کو پورانہ کریں۔توتجھے معلوم ہوجائے گاکہ یہ لوگ کسی سچائی کی تلاش میں نہیں بلکہ جوبھی پراگندہ خیال ان کے دل میں آتاہے اسے ظاہر کردیتے ہیں۔اورپراگندہ خیالات اور خواہشوں کے پیچھے چلنے والا تونہایت گمراہ اور ظالم ہوتاہے۔اوراللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی کامیابی کاراستہ نہیں دکھاتا۔وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَؕ۰۰۵۲ اورہم ان کے لئے پے درپے وحی اتارتے رہے۔تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔تفسیر۔وَصَّلْنَالَھُمُ الْقَوْلَ کے دومعنے ہیں۔ایک تویہ کہ ہم ان کے لئےپے درپے اپنے رسول بھیجتے رہے ہیں۔یاپے درپے ان کے لئے کلام الٰہی نازل کرتے رہے ہیں۔اور دوسرے یہ کہ ہم نے اس قول یعنی قرآن کریم کوان کے لئے مربوط طورپرنازل کیا ہے یعنی سارے قرآن میں ایک اعلیٰ درجہ کی ترتیب پائی جاتی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔پہلے مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ آیت اس مضمون کی حامل ہے جواللہ تعالیٰ نے وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّاخَلَافِیْھَا نَذِیْرٌ یا اَرْسَلْنَارُسُلَنَا تَتْرًا(المومنون :۴۵) وغیرہ آیات میں بیان فرمایا ہے۔یعنی دنیا کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول بھیجتارہاہے۔یہاں تک کہ کوئی قوم ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کاکوئی ہادی اورراہنمانہ گذراہو۔اورجس نے انہیں نیکی اور ہدایت کے راستے پر چلانے کی کوشش نہ کی ہو۔چنانچہ جب ہم مختلف اقوام کے