تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 252
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ اوراگر یہ خیال نہ ہوتاکہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے کسی مصیبت کے آنے پر کہیں گے۔اے ہمارے رب !تُو نے فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَ ہماری طر ف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیری آیتوں کے پیچھے چلتے اور مومنوں میں سے بن جاتے (توشاید ہم نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۴۸ تجھے رسول بناکر نہ بھیجتے مگر کفار پرحجت قائم کرناضروری تھا )۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ اگر ہمیں یہ خیال نہ ہوتاکہ ان لوگوںکو اپنے برے اعمال کی وجہ سے کوئی عذاب پہنچا تویہ فوراً کہہ دیں گے۔کہ اے ہمارے رب !تُو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا۔ہم ذلیل اور خوار ہونے سے پہلے تیرے احکام کی تعمیل کرتے اورمومن بن جاتے توہم ان پر رسول بھیجنے کے بغیر ہی عذاب نازل کردیتے۔اس آیت کی یہ جزاکہ ’’ ہم ان پر رسول بھیجنے کے بغیر ہی عذاب نازل کردیتے ‘‘ اس جگہ محذوف کردی گئی ہے۔جیساکہ قرآن کریم کے بعض اورمقامات میں بھی جزامحذوف ہے اوربتایاگیاہے کہ اگر نبی نہ آ ئیں توقوموں پر حجت تمام نہیں ہوتی اوروہ خدا تعالیٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ تُونے ہم میں نبی نہیں بھیجا اس لئے ہم ہدایت سے محروم رہیں۔اگرہم میں نبی آتا تو ہم اس کے احکام کی تعمیل کرکے تیری رضا حاصل کرلیتیں اور چونکہ یہ ایک معقول عذرہوتا اس لئے ہم نے سلسلہ نبوت جاری کیا ہے۔اوراسی کے مطابق اب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودنیا کی اصلاح کے لئے بھیجاگیاہے۔اگران لوگوں نے خدا تعالیٰ کی آیات کی اتباع کرنے اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانے کی بجائے ظلم اور سرکشی کارویہ اختیار کیا توموسیٰ ؑ کی پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ کاعذاب ان پر نازل ہوجائے گااورپھر ان کاشور مچانا بیکارہو جائے گا۔