تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 240

سے اورچونے کی جگہ گارے سے کام لیا۔پھر و ہ کہنے لگے کہ آئو ہم اپنے واسطے ایک شہر اورایک برج جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے بنائیں اوریہاں اپنا نام کریں۔ایسانہ ہوکہ ہم تمام روئے زمین پر پراگندہ ہوجائیں اورخداوند اس شہر اوراس برج کو جسے بنی آدم بنانے لگے دیکھنے کواترا۔‘‘ (پیدائش باب ۱۱آیت ۱تا۵) غرض بلنداور اونچے میناروں پر خدا تعالیٰ کے نازل ہونے کاتصور چونکہ دیر سے چلا آتاتھا اس لئے فرعون نے بھی چاہاکہ موسیٰ ؑ کوجھوٹاثابت کرنے کے لئے ایک اونچا سامحل بنائے اورپھر لوگوں کو بتائے کہ موسیٰ ؑکے جھوٹاہونے کااس سے بڑااور کیاثبوت ہوگا کہ میں نے اتنا اونچا محل بھی بنوایااورپھر بھی اس کا خدانیچے نہ اُترا۔غرض موسیٰ ؑ کی تعلیم پر ایمان لانے کی بجائے فرعون نے بھی اوراس کے لشکروں نے بھی تکبر سے کام لیا۔اورانہوں نے خیال کیا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لئے حاضر ہونانہیں پڑے گا۔آخرایک دن اس بغاوت اورسرکشی کی سزامیں ہم نے اسے اور اس کے لشکروںکو پکڑ لیا۔اوروہ جو اونچے محل پر چڑھ کر ہمیں دیکھنے کے خواب دیکھ رہاتھا اسے ہم نے سمندر کی تہ میں اپنا جلوہ دکھادیا۔پس دیکھو کہ ظالموںکاکیساعبرتناک انجام ہوا۔یہی وہ انجام تھا جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں پہلے ہی خبردار کردیاتھا اورکہا تھا کہ رَبِّیْ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْھُدٰی مِنْ عِنْدِہٖ وَمَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ۔مگرانہوں نے اپنی طاقت اورحکومت کے گھمنڈ میں اس انذار کی کوئی پرواہ نہ کی۔اورخیال کرلیا کہ ہمیں کون تباہ کرسکتاہے۔کون ہمارا بال بھی بیکاکرسکتاہے۔مگرآخر وہی ہواجس کی موسیٰ ؑ انہیں خبر دے چکے تھے۔موسیٰ ؑ کامیاب ہوئے اور فرعو ن نے اپناحسرت ناک انجا م اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اورہم نے ان کو (یعنی فرعونیوںکو )سرداربنایاتھا جو(اپنی سرداری کے غرورمیں)لوگوں کو دوزخ کی طرف لَا يُنْصَرُوْنَ۰۰۴۲وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً١ۚ وَ بلاتے تھے اورقیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔اوراس دنیا میں بھی ہم نے ان پر لعنت بھیجی