تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 239
الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَيْنَا لَا يُرْجَعُوْنَ۰۰۴۰فَاَخَذْنٰهُ وَ کرنہیں لائے جائیں گے۔پس ہم نے اس کوبھی او راس کے لشکروں کو بھی پکڑ لیا۔اوران کو جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۴۱ سمندر میں پھینک دیا۔پس دیکھ کہ ظالموں کاانجام کیساہوا؟ حل لغات۔صَرْحًا: اَلصَّرْحُ کے معنے ہیں اَلْقَصْرُ۔مضبوط مکان۔وَکُلُّ بِنَآءٍ عَالٍ۔نیز ہربلند عمارت کوبھی صَرْحٌ کہتے ہیں(اقرب) تفسیر۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی صداقت کے ثبوت میں بار بار خدا تعالیٰ کو پیش کیا۔اورکہا کہ میرارب جانتاہے کہ میں اس کی طرف سے آیاہوں اورمیرارب مجھے حسنِ انجام اور کامیابی کی بشارات دے رہاہے اوراس کی تائیدات اورنشانات میری صداقت پر گواہ ہیں توفرعون نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھا۔اور انہیں کہا کہ مجھے تو اپنے سواتمہاراکو ئی معبود نظر نہیں آتا۔پھر نہ معلوم یہ کونساخداہے جس کانام موسیٰ باربار لے رہاہے۔پھر اسی جوش کی حالت میں اس نے ہامان کو بلوایااور اسے حکم دیا کہ فوراً بڑے بڑے بھٹوں میں پختہ اینٹیں تیار کروائو۔اور پتھیروںکو بلاکر ایک اونچا محل بنائو۔شاید اس پر چڑ ھ کر میں موسیٰ ؑ کے خدا کودیکھ سکوں۔اورآخر میں کہا کہ میں تو اسے بالکل جھوٹاسمجھتاہوں۔یعنی کوئی یہ خیال نہ کرے کہ مجھے شبہ ہے کہ شاید جس خدا کاموسیٰ ؑ ذکرکرتاہے وہ موجود ہے تبھی تومیں ایک اونچا محل اس کی تلاش کے لئے بنواناچاہتاہوں۔میرے اس حکم کی غرض شبہ نہیں بلکہ میری غرض موسیٰ ؑ کوجھوٹاثابت کرکے دکھاناہے یعنی دنیا دیکھ لے گی کہ باوجود اس کے کہ میں نے اتنا بڑامحل بنوایاپھر بھی موسیٰ ؑ کا خداکہیں نظر نہیں آیا۔دراصل قدیم اقوام میں بڑی شدت سے یہ تصور پایاجاتاتھا کہ بلند میناروں پر آسمانی ارواح اتراکرتی ہیں۔بلکہ بلند میناروں پر خود خدا تعالیٰ کے اُترنے کاتصور بھی ان میں پایاجاتاتھا۔چنانچہ اس کے ثبوت میںبائیبل کاایک حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔کتاب پیدائش میں لکھا ہے:۔’’ اور تمام زمین پر ایک ہی زبان اور ایک ہی بولی تھی۔اورایساہواکہ مشرق کی طرف سفر کرتے کرتے ان کو ملک سِنعار (یعنی بیبلونیا) میں ایک میدان ملا۔اوروہ وہاں بس گئے۔اورانہوں نے آپس میں کہا آئوہم اینٹیں بنائیں اوران کو آگ میں خوب پکائیں۔سوانہوں نے پتھر کی جگہ اینٹ