تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 233

الْعٰلَمِيْنَ سے یہ مراد نہیں کہ درخت نے کہا کہ میں اللہ سب جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہوں۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔اور انہیں یوں معلوم ہوا جیسے الہام کی آواز درخت کی طرف سے آرہی ہے۔وَاضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّھْبِ میں بازو سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔اور مطلب یہ ہے کہ تمہارا بنی اسرائیل کو اپنے وجود سے دور رکھنا خطرے کا موجب ہوگا۔پس تو اس خوف سے کہ وہ کہیں بے دین نہ ہوجائیں انہیں ہمیشہ اپنے ساتھ چمٹائے رکھیؤ۔اور ان کی نیک تربیت کی طرف توجہ رکھیؤ۔یہ واقعہ بھی ایسا ہے جس میں بائیبل اور قرآن کریم کے بیان کردہ امور میں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔مثلاً اول۔بائیبل کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی مدین میں ہی تھے کہ ایک دن اپنے خُسر کی بھیڑ بکریوں کو چراتے ہوئے وہ حوربؔ پہاڑ پر جا پہنچے اور وہاں ’’خدا وند کا فرشتہ ایک جھاڑی میں سے آگ کے شعلہ میں سے اس پر ظاہر ہوا۔‘‘ (خروج باب ۳ آیت ۱،۲) اور خدا وند تعالیٰ نے انہیں فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا۔اس کے بعد لکھا ہے۔’’ موسیٰ لوٹ کر اپنے خسر یتروؔکے پاس گیا اور اسے کہا کہ مجھے ذرا اجازت دے کہ اپنے بھائیوں کے پاس جو مصر میں ہیں۔جائوں اور دیکھوں کہ وہ اب تک جیتے ہیں کہ نہیں۔یتروؔنے موسیٰ سے کہا سلامت جا۔اور خداوند نے مدیان ؔ میں موسیٰ سے کہاکہ مصر کو لوٹ جا کیونکہ وہ سب جو تیری جان کے خواہاں تھے مر گئے۔تب موسیٰ اپنی بیوی اور بیٹوں کو لے کر اور ان کو ایک گدھے پر چڑھا کر مصر کو لوٹا۔‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۸تا ۲۰) لیکن قرآن کریم بتاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ا س وقت بھیڑ بکریاں چرانے کے لئے نہیں گئے تھے۔بلکہ میعاد مقررہ پور ی ہوجانے کے بعد اپنے اہل کو لے کر کسی دوسری جگہ تشریف لے جار ہے تھے کہ راستہ میں اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوا۔اور اس نے انہیں رسالت کے مقام پر کھڑ اکر کے فرعونِ مصر کی طرف جانے کا حکم دیا۔دوم۔بائیبل کہتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا گیا۔تو انہوں نے باربار انکارکیا اور کہا کہ۔